دیوبند: سی بی آئی کے معطل ڈی ایس پی کے گھر سی بی آئی کی چھاپہ ماری

سی بی آئی کی اچانک چھاپہ ماری سے علاقہ کے لوگ حیرت زدہ تھے اور چہ می گوئیاں شروع ہو گئی تھیں، سی بی آئی نے میڈیا سمیت کسی کو بھی سی بی آئی کے معطل ڈی ایس پی کے گھر کے آس پاس تک آنے نہیں دیا۔

دیوبند میں راجیورشی کے گھر کے پاس لگی سی بی آئی افسران کی گاڑیاں
دیوبند میں راجیورشی کے گھر کے پاس لگی سی بی آئی افسران کی گاڑیاں
user

عارف عثمانی

دیوبند: بینک دھوکہ دھڑی کے معاملہ میں معطل سی بی آئی کے ڈی ایس پی کے خلاف چل رہی تفتیش کے تحت آج سی بی آئی کی ٹیم نے دیوبند پہنچ کر ڈی ایس پی کے گھر پر چھاپہ ماری کی، صبح کے وقت دیوبند پہنچی سی بی آئی ٹیم خبر لکھے جانے تک ڈی ایس پی کے گھر پر ہی موجود تھی اور گھر کے اندر سخت جانچ پڑتال چل رہی تھی۔

سی بی آئی کی ٹیم نے غازی آباد کی ٹریننگ اکیڈمی میں تعینات معطل ڈی ایس پی راجیو کمار رشی کے دیوبند میں ریلوے روڈ پر واقع لاجپت نگرمکان پر چھاپہ ماری کی ہے، آٹھ گاڑیوں میں سوار ہوکر آئے سی بی آئی کے درجنوں افسران آٹھ گھنٹے بعد بھی شام پانچ تک معطل ڈی ایس پی کے گھر میں ہی موجود تھے۔ اس دوران ٹیم نے جہاں راجیو کمار رشی کے گھر میں سخت اور باریک بینی کے ساتھ جانچ کی، وہیں ان کے ایک قریبی دوست سے بھی گھنٹوں ٹیم نے پوچھ گچھ کی۔


سی بی آئی کی اچانک چھاپہ ماری سے جہاں پورے علاقہ کے لوگ حیرت زدہ تھے وہیں کالونی کے لوگ بھی چہ میگوئیاں کر رہے تھے، سی بی آئی نے میڈیا سمیت کسی کو بھی گھر کے آس پاس تک جانے نہیں دیا۔ حالانکہ سی بی آئی ٹیم صبح مقامی پولیس کے ساتھ راجیو رشی کے گھر پہنچی تھی لیکن گھر کے گیٹ سے ہی مقامی پولیس کو واپس کر دیا گیا تھا، حالانکہ اس دوران دو ہوم گارڈس کی ڈیوٹی گھر کے باہر رہی، ٹیم میں شامل اہلکار ایک دو مرتبہ باہر آنے پر وہاں موجود میڈیا اہلکاروں نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے کسی سے بھی بات چیت کرنے سے انکار کر دیا۔ اتنا ہی نہیں گھر میں ہوئی نئی تعمیر وغیرہ کی بھی باریک بینی سے جانچ کی گئی، حالانکہ اس دوران میڈیا اہلکاروں نے ٹیم سے چھاپہ ماری کرنے کی وجہ جاننے کی کوشش کی مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

واضح رہے کہ راجیو رشی کے والد آنجہانی رمیش رشی شہر کے انکم ٹیکس کے معروف وکیل تھے اور راجیو کا بھائی بھی انکم ٹیکس کا وکیل ہے۔ بدھ کے روز جب سی بی آئی نے گھر پر چھاپہ ماری کی، تو سی بی آئی کی ٹیم نے گھر کی تمام خواتین سمیت گھر والوں کو لان میں جمع کر دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔