دہلی فساد: عمر خالد 22 اکتوبر تک عدالتی تحویل میں بھیجے گئے، پولیس نے نہیں مانگی ریمانڈ

پولیس نے ایف آئی آر میں دعویٰ کیا ہے کہ فرقہ وارانہ فساد ایک 'پہلے سے طے شدہ سازش' تھی، جسے مبینہ طور پر عمر خالد اور دو دیگر افراد نے انجام دیا تھا۔

عمر خالد
عمر خالد
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فساد کے کیس میں گرفتار جے این یو کے سابق طالب علم رہنما عمر خالد کو عدالت نے 22 اکتوبر تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ واضح رہے کہ دہلی پولیس کی خصوصی سیل نے عمر خالد کے خلاف یو اے پی اے کے تحت کئی دفعات میں مقدمہ درج کیا ہے۔

پولیس حراست کی مدت ختم ہونے کے بعد عمر خالد کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت کے سامنے پیش کیا گیا۔ عمر خالد کو 13 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور پولیس نے ان کی مزید جسمانی ریمانڈ کا مطالبہ نہیں کیا۔

پولیس نے ایف آئی آر میں دعویٰ کیا ہے کہ فرقہ وارانہ فساد ایک 'پہلے سے طے شدہ سازش' تھی، جسے مبینہ طور پر خالد اور دو دیگر افراد نے انجام دیا تھا۔ عمر خالد کے خلاف مذہب کی بنیاد پر فرقوں کے مابین دشمنی پیدا کرنا، قتل، اقدام قتل اور فساد بھڑکانے کے الزامات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ عمر خالد نے مبینہ طور پر دو مختلف مقامات پر اشتعال انگیز تقاریر کیں اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر نکلیں اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورے کے موقع پر جام لگائیں تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر اس پروپیگنڈے کو پھیلائیں کہ ہندوستان میں اقلیتوں پر ظلم کیا جا رہا ہے۔

next