دہلی فسادات ملک کی تاریخ کا بدنما داغ: برندا کرات

سی پی آئی ایم کی پولٹ بیورو برندرا کرات نے ایک سال قبل ہوئے دہلی فسادات کو ملک کی تاریخ کا بد نما داغ قرار دیتے ہوئے فساد متاثرین کو انصاف اور معقول معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔

تصویر محمد تسلیم
تصویر محمد تسلیم
user

محمد تسلیم

نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی میں گزشتہ برس ہوئے فرقہ ورانہ فسادا ت کو ایک برس ہو چکا ہے، لیکن اب بھی فساد کے زخم تازہ ہیں اور فساد متاثرین انصاف کے منتظر ۔بیشتر فساد متاثرین کو اب تک نہ ہی قانون سے کوئی انصاف ملا ہے، اور نہ ہی حکومت کی جانب سے معاوضہ کا وعدہ ہی پورا ہو پایا ہے۔ دہلی فسادات کے ایک سال ہونے پر مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی ایم) نے فساد متاثرین کو انصاف اور معقول معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔علاوہ ازیں عدالت کی نگرانی میں فسادات کی منصفانہ جانچ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ منگل کے روز نئی د ہلی کے پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران سی پی آئی ایم کی پولٹ بیورو برندا کرات نے دہلی فسادات کو ملک کی تاریخ کا بد نما داغ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہلی فسادات ملک کی اس راجدھانی میں پربا ہوئے ہیں جہاں کی پولیس مرکزی حکومت کے ماتحت کام کرتی ہے۔فسادات کو ایک سال گزر چکا ہے لیکن فساد متاثرین کے زخم اب تک تازہ ہیں، اور انہیں کبھی نہیں بھرا جا سکتا ہے۔

برندا کرات نے سوالیہ لہجے میں پوچھا کہ ’’جو فسادات کی سازش کے پیچھے ہیں، کیا ایک سال گزرنے کے بعد بھی وہ کیفرِ کردار تک پہنچ پائے ہیں؟ کیا مرکزی حکومت نے فساد ملزمان کی نشاندہی کر ان کو سزا دلانے کا کام کیا ہے؟‘‘ انہوں نے مرکزی حکومت کے کردار پر انگلی اٹھاتے ہوئے کہا کہ شمال مشرقی دہلی کے بیشتر علاقوں میں 5 روز تک فسادات جاری رہے، لیکن مرکزی حکومت نے فسادات کو روکنے کے لئے کوئی کارروائی انجام نہیں دی۔یہاں تک کے لوگ مرتے رہے لیکن پولیس نے کسی بھی علاقے میں سیکشن 144 کا نفاذ نہیں کیا۔ 25 فروری کی دیر رات جب 29 لوگ اپنی جان گنوا چکے تھے تب علاقے میں کرفیو لگایا گیا جس سے مرکزی حکومت کی منشا واضح ہوتی ہے کہ فسادات کے پیچھے اس کا ہی ہاتھ تھا۔برندرا کرات نے مزید کہا کہ فسادات بی جے پی لیڈر اور ان کی اشتعال انگیز تقریر سے برپا ہوئے تھے مگر اس کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

برندا کرات نے بتایا کہ سی پی آئی ایم کی درخواست پر دہلی پولیس نے عدالت میں یہ قبول کیا ہے کہ دہلی پولیس کی جانچ میں کسی بھی طرح کی کوئی کمی نہیں ہے جبکہ حقیقت سے سبھی باخبر ہیں کہ دہلی فسادات میں دہلی پولیس کا کردار مشکوک رہا ہے۔وہ فسادیوں کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہ کر فساد متاثرین کے خلاف مقدمہ درج کرتی ہے۔ اس معاملہ پر دہلی ہائی کورٹ سے بھی مایوسی ہاتھ لگی ہے کہ اس نے فسادات کی جانچ کے طور پر عدالتی مداخلت نہیں کی۔

برندا کرات نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ سی پی ایم نے دہلی فسادات سے متعلق 80 صفحات پر مشتمل رپورٹ انگریزی میں شائع کی تھی جسے اب ہندی زبان میں بھی شائع کیا گیا ہے۔ اس میں فسادات سے متعلق تفصیلی حقائق پیش کیے گئے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فساد متاثرین کو انصاف دیا جائے اور ان کے عزیزوں کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔برندا کرات نے دہلی حکومت کے ذریعہ متاثرین کو دیئے جانے والے معاوضہ پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ دہلی حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ اس نے 26 کروڑ روپے فساد متاثرین کو بطور معاوضہ دیے ہیں جبکہ ہم کسی بھی متاثر کے گھر جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ان کو معاوضہ نہیں ملا ہے۔برندا کرات نے مطالبہ کیا کہ سبھی فساد متاثرین کو معقول معاوضہ دیا جائے، ساتھ ہی بالغ اور نا بالغ کے معاوضہ میں کوئی فرق نہ کیا جائے۔انہوں نے دہلی فسادات کی منصفانہ جانچ عدالت کی نگرانی میں کئے جانے کا مطالبہ بھی کیا۔

دہلی فسادات ملک کی تاریخ کا بدنما داغ: برندا کرات

پریس کانفرنس کے دوران کئی فساد متاثرین بھی موجود تھے جن کو ایک سال بعد بھی معاوضہ اور انصاف نہیں مل پایا ہے۔ بھگوتی وہار میں مقیم 30سالہ ملکہ (جس کے شوہر مشرّف کو 25 فروری کو فسادیوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا) نے روتے ہوئے بتایا کہ ’’25 فروری کی شام کو بھیڑ ان کی گلی میں داخل ہو گئی اور مسلمانوں کو تلاش کرنے لگی۔ میں نے اپنے گھر کی سبھی لائٹ بند کر دیے تھے اور اپنے شوہر مشرّف کو کپڑوں کے ڈھیر میں چھپا دیا تھا۔ لیکن بھیڑ نے اسے ڈھونڈ لیا اور بے دردی سے مارتے ہوئے ا سے باہر لے گئے۔‘‘ ملکہ نے مزید بتایا کہ ’’دو دن بعد مشرف کی لاش جی ٹی بی اسپتال سے کیچڑ میں سنی ہوئی ملی۔‘‘مشرّف کے تین بچے ہیں۔اس خاندان کو ابھی تک نہ انصاف ملا ہے نہ معاوضہ۔

شیووہار میں 30 سال سے مقیم 53 سالہ محمد وکیل نے بھی اپنا درد لوگوں کے سامنے بیان کیا۔ انھوں نے کہا کہ فساد تو 25 فروری 2020 سے تین روز قبل ہی شروع ہوگیا تھا لیکن شیو وہار میں 25 فروری کی شام جب فسادیوں نے ہنگامہ شروع کیا تو ہم نے اپنی جان بچانے کے لئے خود کو اپنے گھر میں قید کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ جب شام کا وقت ہوگیا تو ساری لائٹ کاٹ دی گئی اور شیو وہار میں اندھیرا چھا گیا اور پتھر بازی شروع ہوگئی۔ جب ہمیں لگا کہ ہم محفوظ نہیں ہیں تو میں نے باہر جھانک کر دیکھا کہ کیا ہورہا ہے۔ اچانک میرے چہرہ پر ایک تیزاب کی بوتل آلگی۔ اس وقت مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ جب میری بیٹی انعم نے موبائل کی ٹارچ آن کر میرا چہرہ دیکھا تو خون بہہ رہا تھا۔ میرا چہرہ جل گیا تھا اور میری بینائی بھی چلی گئی۔ محمد وکیل نے بتایا کہ انھیں بطور معاوضہ صرف 1 لاکھ 80 ہزار روپے ہی مل پائے ہیں جبکہ دلّی حکومت کے مطابق پانچ لاکھ ملنے تھے۔

کھجوری کے رہنے والے محمد ممتاز بتاتے ہیں کہ ’’23 فروری کو بھارت بند تھا۔ شیر پور چوک پر اچانک لوگ جمع ہو گئے۔میں اس وقت اپنے ریسٹورینٹ پر تھا۔ اچانک لوگ نعرے بازی کرنے لگے۔ ان میں سے کچھ لوگ گوجر سماج کے بھی تھے جن کو میں جانتا تھا۔ انہوں نے میری دکان سے سارے پیسے لوٹ لیے اور کہا کہ ہم تجھے آزادی دیں گے۔‘‘ محمد ممتاز کے مطابق 24 تاریخ کو پولیس نے اطلاع دی کہ ریسٹورینٹ کا سارا سامان سڑک پر پڑا ہوا ہے آکر لے جاؤ ورنہ ہم ایم سی ڈی کے حوالے کر دیں گے۔میرا سارا پیسہ پہلے ہی لوٹ لیا گیا تھا، سوچا سامان لینے چلا جاتا ہوں۔ لیکن جب ریسٹورینٹ پہنچا تو سارا سامان جلا ہوا تھا۔میں نے ایس ڈی ایم کو کئی بار درخواست دی ہے لیکن معاوضہ نہیں مل پایا ہے۔ اس کے علاوہ دہلی تشد د میں سب سے کم عمر میں فوت ہونے والا 15 سالہ نتن پاسوان کے والد رام سوہان و دیگر متاثرین نے بھی اپنا درد بیان کیا ۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next