شبنم کی پھانسی پھر ٹل گئی، کیا وکیل جان بچانے میں ہو جائے گا کامیاب؟

شبنم کے لیے پھانسی کی تاریخ طے ہونے کے بعد ڈیتھ وارنٹ جاری کیا جائے گا، اور ضابطے کے مطابق ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کے 10 دن کے اندر اس کو پھانسی دی جائے گی۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

اترپردیش کے امروہہ ضلع واقع باون کھیڑی قتل عام کی قصوروار شبنم کی پھانسی کے لیے آج تاریخ پر فیصلہ سنایا جانا تھا، لیکن ایک بار پھر یہ پھانسی ملتوی ہو گئی ہے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق امروہہ ضلع کورٹ نے استغاثہ سے شبنم کی رپورٹ مانگی تھی، لیکن شبنم کے وکیل کی جانب سے گورنر کو رحم کی عرضی دے دی گئی۔ وکیل کے اس قدم سے شبنم کی پھانسی کو ایک بار پھر سے ملتوی کر دیا گیا۔ اب لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا شبنم کا وکیل ان کی جان بچانے میں کامیاب ہو پائے گا۔ یہاں قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ شبنم کے 12 سالہ بیٹے نے بھی صدر جمہوریہ سے گزارش کی ہے کہ اا کی ماں کو معاف کر دیا جائے تاکہ وہ ان کے ساتھ رہ سکے۔

واضح رہے کہ شبنم کے لیے پھانسی کی تاریخ طے ہونے کے بعد ڈیتھ وارنٹ جاری کیا جائے گا، اور ضابطے کے مطابق ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کے 10 دن کے اندر اس کو پھانسی دی جائے گی۔ لیکن گورنر کے پاس رحم کی عرضی داخل کیے جانے کے سبب فی الحال پھانسی کا پھندا شبنم کے گلے سے دور ہو گیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کچھ دنوں قبل شبنم نے قتل عام معاملہ میں سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بے قصور ہے۔ گزشتہ دنوں جیل میں جب شبنم کا بیٹا اس سے ملنے آیا تھا تو وہ خوب روئی تھی اور خود کو بے قصور بتایا تھا۔ شبنم نے بیٹے تاج سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس کی پرچھائیں سے دور رہے اور پڑھ لکھ کر اچھا انسان بنے۔

شبنم کے بیٹے تاج کی دیکھ بھال عثمان نامی شخص کر رہا ہے اور اس نے بتایا کہ تاج اپنی ماں سے محبت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ صدر جمہوریہ اس کی پھانسی کی سزا معاف کر دیں۔ عثمان نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ تاج کو لے کر شبنم سے ملنے گیا تھا تو قتل عام واقعہ کے تعلق سے پوچھا تھا، جس پر شبنم نے کہا کہ وہ بے قصور ہے اور اسے پھنسایا گیا ہے۔ حالانکہ تقریباً 12 سال پہلے ہوئے اس واقعہ میں عدالت نے اسے قصوروار قرار دیا ہے۔

غور طلب ہے کہ 15-14 اپریل 2008 کی شب شبنم نے اپنے عاشق سلیم کے ساتھ مل کر اپنی ہی فیملی کے سات لوگوں کو کلہاڑی سے کاٹ کر قتل کر دیا تھا۔ اس معاملے میں ذیلی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک نے دونوں کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ سپریم کورٹ نے دسمبر 2020 میں دونوں کی از سر نو غور کی عرضی بھی خارج کر دی تھی۔ بعد ازاں صدر جمہوریہ نے بھی شبنم کی رحم کی عرضی خارج کر دی۔ حالانکہ اس کے مبینہ عاشق سلیم کی رحم کی عرضی اب بھی صدر جمہوریہ کے پاس زیر التوا ہے۔ سلیم اس وقت نینی جیل میں بند ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next