کشمیری ہندو اور سکھ اقلیتوں کے قتل کا از خود نوٹس لیا جائے، دہلی کے وکیل کی سپریم کورٹ سے اپیل

شہر میں جہاں ناکوں کے جال کو مزید توسیع دی گئی ہے وہیں حساس مقامات پر سیکورٹی کی نفری میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور انہیں مزید چوکنا بھی رکھا گیا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: حالیہ شہری ہلاکتوں کے پیش نظر سری نگر کے قرب و جوار بالخصوص حساس چوکوں میں سیکورٹی بندوبست کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ شہر میں جہاں ناکوں کے جال کو مزید توسیع دی گئی ہے وہیں حساس مقامات پر سیکورٹی کی نفری میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور انہیں مزید چوکنا بھی رکھا گیا ہے۔

دریں اثنا، دہلی کے ایک وکیل نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ کشمیر میں ہندو اقلیتوں کے آئے دن ہو رہے قتل کے معاملہ پر ’از خود نوٹس‘ لیا جائے۔ چیف جسٹس این وی رمنا کو لکھے گئے خط میں دہلی کے وکیل ونیت جندل نے کہا’’کشمیر میں آئے دن ملی ٹینٹوں کے ہاتھوں بے گناہ ہندو ار سکھ اقلیتوں کو نشانہ بنایا اور ان کو قتل کیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے دونوں کمیونٹیز کے لوگ عدم ​​تحفظ اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور وہ سیکورٹی کے ناقص نظام سے بہت ناراض ہیں۔‘‘ جندل نے خط میں کشمیر کے ایک اسکول کے پرنسپل، ایک ٹیچر اور ایک فارماسسٹ کے قتل کا ذکر کیا ہے۔


ادھر، یو این آئی اردو کے ایک نامہ نگار نے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ سری نگر میں سیکورٹی بندوبست کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر سیکورٹی فورسز اہلکار اسکوٹر سواروں کو روک کر ان کے بیگوں کی تلاشی کرنے کے بعد انہیں دیوار کے ساتھ کھڑا کر کے مشین سے ان کے جسم کو بھی چیک کر رہے ہیں۔ موصوف نامہ نگار نے کہا کہ سیکورٹی فورسز اہلکار مشکوک نظر آنے والے راہگیروں کو بھی روک کر ان کی جامہ تلاشی اور ان کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد انہیں اپنے اپنے منزلوں کی طرف جانے کی اجازت دیتے تھے۔ بتا دیں کہ حالیہ دنوں کے دوران وادی بالخصوص سری نگر میں شہری ہلاکتوں سے جہاں لوگوں میں خوف و دہشت پھیل گئی ہے وہیں سیکورٹی فورسز بھی ہائی الرٹ پر ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔