بارش رکتے ہی دہلی کی فضا پھر زہریلی، پی ایم 2.5 سطح میں خطرناک اضافہ، اجئے ماکن کا سخت سوال
دہلی میں بارش کے بعد وقتی بہتری ختم ہوتے ہی آلودگی دوبارہ خطرناک سطح پر پہنچ گئی۔ اجئے ماکن کے مطابق شہر کی ہوا عالمی معیار سے کئی گنا زیادہ آلودہ ہے اور سال بہ سال صورت حال مزید بگڑ رہی ہے

نئی دہلی: قومی راجدھانی دہلی میں بارش کے ختم ہوتے ہی فضائی آلودگی ایک بار پھر خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن اجئے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تازہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شہر کی فضا میں پی ایم 2.5 کی اوسط سطح 22 مارچ 2026 کو تقریباً 69.9 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو عالمی ادارہ صحت کے مقررہ محفوظ معیار 15 مائیکروگرام سے تقریباً 4.7 گنا زیادہ ہے۔
اجئے ماکن کے مطابق دہلی کے 44 میں سے 35 مانیٹرنگ اسٹیشنز پر آلودگی کی سطح قومی معیار 60 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے اوپر ہے، جبکہ ایک بھی اسٹیشن ایسا نہیں جہاں سطح عالمی معیار کے اندر ہو۔ انہوں نے کہا کہ سب سے خراب صورت حال مندر مارگ اور این ایس آئی ٹی دوارکا میں دیکھی گئی، جہاں پی ایم 2.5 کی سطح 101 مائیکروگرام تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ منڈکا میں 92، جہانگیرپوری میں 91 اور دیگر علاقوں میں بھی آلودگی کی سطح انتہائی بلند درج کی گئی۔
انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اصل تشویش کی بات سال بہ سال موازنہ ہے، جس میں صورت حال مزید خراب نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق 31 میں سے 30 مانیٹرنگ اسٹیشنز پر آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے اور مجموعی طور پر شہر کی اوسط سطح میں 74 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر مندر مارگ میں پی ایم 2.5 کی سطح 36 سے بڑھ کر 101 مائیکروگرام ہو گئی، جو 184 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ این ایس آئی ٹی دوارکا میں 178 فیصد اور سونیا وہار میں 131 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
اجئے ماکن نے نیشنل کلین ایئر پروگرام کے تحت خرچ کی گئی خطیر رقم پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت 19 ہزار 614 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، اس کے باوجود دہلی کی فضا گزشتہ سال کے مقابلے میں مزید 74 فیصد زیادہ آلودہ ہو گئی ہے، جو پالیسی اور عمل درآمد پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتی ہے۔
انہوں نے عالمی تحقیقی اداروں کے حوالہ سے بتایا کہ باریک ذرات یعنی پی ایم 2.5 انسانی صحت کے لیے نہایت خطرناک ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں لاکھوں اموات ان ذرات سے جڑی ہوئی ہیں، جبکہ ایک اور تحقیق کے مطابق پی ایم 2.5 میں ہر 10 مائیکروگرام اضافے سے اموات کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
اجئے ماکن نے حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ آخر دہلی کے شہریوں کو صاف ہوا کب ملے گی۔ انہوں نے عوامی نقل و حمل میں سرمایہ کاری، تعمیراتی مقامات پر سخت ضابطے اور ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے جیسے اقدامات پر زور دیا، تاکہ آلودگی کے مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔