’ہولی کے بعد دہلی میں پھر بڑھ گئی آلودگی، پی ایم 2.5 کی سطح میں 150 فیصد اضافہ‘، اجئے ماکن کا اظہارِ تشویش

اجئے ماکن نے سوال اٹھایا کہ ’این سی اے پی‘ (قومی پروگرام برائے صاف ہوا) کے تحت کروڑوں روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود آلودگی میں نمایاں کمی کیوں نظر نہیں آ رہی۔

<div class="paragraphs"><p>اجئے ماکن، تصویر یو این آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس کے سینئر لیڈر اور خزانچی اجئے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعہ دعویٰ کیا ہے کہ دہلی میں ہولی کے بعد فضائی آلودگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر واپس آنے اور تعمیراتی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے سے شہر میں پی ایم 2.5 کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

اجئے ماکن کی جانب سے شیئر کردہ اعداد و شمار کے مطابق 7 مارچ 2026 کو 24 گھنٹوں کے دوران کئی علاقوں میں پی ایم 2.5 کی سطح تشویش ناک حد تک پہنچ گئی۔ علی پور میں یہ 243 مائیکروگرام فی مکعب میٹر، مندر مارگ میں 223، جہانگیرپوری میں 222، پنجابی باغ میں 216 اور وزیر پور میں 212 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کیا گیا۔ ماکن کے مطابق یہ سطح نہ صرف عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی مقررہ حد 15 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے زیادہ ہے، بلکہ قومی فضائی معیار 60 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔


کانگریس لیڈر کہا کہ دہلی کے 10 میں سے تمام 10 مانیٹرنگ اسٹیشنز نے پی ایم 2.5 کی مقررہ حدود کو پار کر لیا ہے اور ان میں سے 9 اسٹیشنز کی حالت 2021 کے مقابلے میں مزید خراب ہو گئی ہے۔ ماکن کے مطابق شہر میں اوسط پی ایم 2.5 کی سطح صرف 2 دنوں میں 84 مائیکروگرام فی مکعب میٹر (5 مارچ) سے بڑھ کر 210 مائیکروگرام فی مکعب میٹر (7 مارچ) تک پہنچ گئی۔ یعنی تقریباً 150 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔

اجئے ماکن نے اس صورتحال کی وجہ گاڑیوں کے بڑھتے استعمال اور تعمیراتی مقامات پر مناسب حفاظتی اقدامات نہ ہونے کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہولی کے بعد تعمیراتی سرگرمیوں کے دوبارہ شروع ہونے کے باوجود کئی مقامات پر دھول کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں، جس سے آلودگی مزید بڑھ رہی ہے۔


اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں ماکن نے ایک تحقیقی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2024 میں شائع ہونے والی لانسیٹ اسٹڈی کے مطابق 2009 سے 2019 کے درمیان ہندوستان میں پی ایم 2.5 آلودگی کے باعث تقریباً 38 لاکھ اموات ہوئیں۔ اسی طرح ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق پی ایم 2.5 کی سطح میں ہر 10 مائیکروگرام فی مکعب میٹر اضافے سے اموات کی شرح میں 8.6 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماکن نے دہلی میں آلودگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے 3 اہم تجاویز پیش کی ہیں۔ ان کے مطابق سب سے پہلے عوامی نقل و حمل میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جانی چاہیے، جس میں میٹرو کی توسیع، الیکٹرک بسوں کی تعداد میں اضافہ اور آخری مقام تک بہتر رابطہ شامل ہو۔ دوسری تجویز کے طور پر انہوں نے تعمیراتی مقامات پر سخت ڈسٹ کنٹرول نافذ کرنے کی بات کہی، جس کے تحت پانی کا چھڑکاؤ، ملبہ کو ڈھانپ کر رکھنا اور خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کرنا ضروری ہے۔ تیسری تجویز میں انہوں نے کانجیشن پرائسنگ اور غیر موٹرائزڈ ٹرانسپورٹ کے لیے خصوصی راستوں (کوریڈور) کے قیام پر زور دیا۔


کانگریس لیڈر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ’این سی اے پی‘ (قومی پروگرام برائے صاف ہوا) کے تحت کروڑوں روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود آلودگی میں نمایاں کمی کیوں نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت کو جواب دینا چاہیے کہ اب تک کیے گئے اقدامات کے نتائج کہاں ہیں۔ ماکن کے مطابق اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں دہلی کی فضائی کیفیت مزید خراب ہو سکتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔