’دہلی کی فضائی آلودگی سنگین عوامی صحت بحران بن گئی‘، اجئے ماکن نے زہریلی ہوا پر پھر کیا اظہارِ تشویش
اجئے ماکن نے ایک تحقیقی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طبی جریدے ’دی لانسیٹ‘ کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق 2009 سے 2019 کے درمیان ہندوستان میں پی ایم 2.5 آلودگی سے منسوب 38 لاکھ اموات ہوئیں۔

نئی دہلی: دہلی میں فضائی آلودگی ایک بار پھر شدید تشویش کا سبب بن گئی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور خزانچی اجئے ماکن نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سال شہر کی ہوا گزشتہ سال کے مقابلے میں مزید خراب ہو گئی ہے اور یہ صورتحال اب ایک بڑے عوامی صحت کے بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
رکن پارلیمنٹ اجئے ماکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں دہلی کے مختلف مانیٹرنگ اسٹیشنوں کے تازہ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 11 مارچ 2026 کو 24 گھنٹے کے دوران پی ایم 2.5 کی سطح میں گزشتہ سال کے مقابلے نمایاں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دہلی کے کئی علاقوں میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ آنند وہار میں پی ایم 2.5 کی سطح 426 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 134 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح جہانگیر پوری میں یہ سطح 356 مائیکروگرام فی مکعب میٹر رہی، جو 90 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
کچھ دیگر مانیٹرنگ اسٹیشنوں کا ذکر کرتے ہوئے اجئے ماکن نے بتایا کہ پنجابی باغ میں 256 مائیکروگرام فی مکعب میٹر (35 فیصد اضافہ) ریکارڈ کیا گیا، آر کے پورم میں 240 مائیکروگرام فی مکعب میٹر (46 فیصد اضافہ) درج ہوا، اور مندر مارگ میں 215 مائیکروگرام فی مکعب میٹر (65 فیصد اضافہ) دیکھا گیا۔ ماکن کے مطابق شہر کے 10 میں سے 9 مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر گزشتہ سال کے مقابلے آلودگی کی سطح زیادہ پائی گئی۔ تمام اسٹیشنوں پر فضائی آلودگی کی مقدار عالمی ادارۂ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او کی مقررہ حد 15 مائیکروگرام فی مکعب میٹر اور ہندوستانی قومی معیار یعنی ’این اے اے کیو ایس‘ کی حد 60 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے کہیں زیادہ رہی۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے ایک تحقیقی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طبی جریدے ’دی لانسیٹ‘ کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق 2009 سے 2019 کے درمیان ہندوستان میں پی ایم 2.5 آلودگی سے منسوب 38 لاکھ اموات ہوئیں۔ اسی طرح ’ہاروارڈ یونیورسٹی‘ کی ایک تحقیق کے مطابق پی ایم 2.5 میں ہر 10 مائیکروگرام فی مکعب میٹر اضافہ اموات کی شرح میں 8.6 فیصد اضافے سے جڑا ہوا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ دہلی میں آلودگی کے 2 بڑے ذرائع گاڑیوں کا دھواں اور تعمیراتی کاموں سے اٹھنے والی دھول ہیں، جن پر فوری قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس کے لیے چند اہم اقدامات تجویز کیے۔
اجئے ماکن کے مطابق حکومت کو عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے، جس میں میٹرو کی توسیع، الیکٹرک بسوں کی تعداد میں اضافہ اور آخری منزل تک کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی تعمیراتی مقامات پر سخت ڈَسٹ کنٹرول نافذ کیا جانا چاہیے، جس کے تحت پانی کا چھڑکاؤ، ملبہ کو ڈھانپنا اور خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کرنا ضروری ہے۔
کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ شہر میں ’کنجیشن پرائسنگ‘ یعنی مصروف علاقوں میں گاڑیوں کے داخلے پر فیس اور غیر موٹرائزڈ ٹرانسپورٹ کوریڈور جیسے سائیکل اور پیدل راستوں کو فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ اجئے ماکن نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ’نیشنل کلین ایئر پروگرام‘ (این سی اے پی) کے تحت کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود سال در سال ہوا مزید خراب کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ آخر ان اخراجات کے نتائج کیوں نظر نہیں آ رہے؟
اجئے ماکن نے جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں، وہ دہلی پولیوشن کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی) کے ڈاٹا پر مبنی ہیں، جسے انھوں نے اپنے تجزیے کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر فوری اور سخت اقدامات نہیں کیے گئے تو دہلی کی فضائی آلودگی آنے والے سالوں میں صحت کے لیے مزید بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔