’ہولی کے بعد دہلی کی فضا پھر ہوئی زہریلی، کئی علاقوں میں آلودگی 2021 سے بھی زیادہ‘، اجئے ماکن کا اظہار تشویش

اجئے ماکن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آلودگی پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ دہلی کے شہریوں کو صاف اور محفوظ فضا فراہم کی جا سکے۔

<div class="paragraphs"><p>اجئے ماکن / قومی آواز / وپن</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: ہولی کے فوراً بعد قومی راجدھانی دہلی میں فضائی آلودگی ایک بار پھر خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور خزانچی اجئے ماکن لگاتار تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ آج انھوں نے ایک بار پھر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تازہ اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی کے کئی علاقوں میں آلودگی کی سطح 2021 کے مقابلے میں بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔

اجئے ماکن کے مطابق دہلی کے 3 ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشن ایسے ہیں جہاں پی ایم 2.5 کی سطح 2021 سے بھی زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ ان میں وزیرپور، این ایس آئی ٹی دوارکا اور مندر مارگ شامل ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق وزیرپور میں پی ایم 2.5 کی سطح 194 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو 2021 کے مقابلے میں تقریباً 62 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح این ایس آئی ٹی دوارکا میں یہ سطح 191 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی، جو 2021 کے مقابلے میں 53 فیصد زیادہ ہے، جبکہ مندر مارگ میں پی ایم 2.5 کی سطح 180 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ ہوئی، جو 2021 کے مقابلے میں 2 فیصد زیادہ ہے۔


کانگریس لیڈر نے کہا کہ دہلی کے تمام 10 مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر آلودگی کی سطح عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مقرر کردہ معیار سے کہیں زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق پی ایم 2.5 کی محفوظ حد 15 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہے، جبکہ ہندوستان کے قومی معیار یعنی نیشنل امبیئنٹ ایئر کوالٹی اسٹینڈرڈس (این اے اے کیو ایس) کے تحت اس کی حد 60 مائیکروگرام فی مکعب میٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس کے باوجود دہلی کے تمام اسٹیشنوں پر یہ سطح ان حدود سے کئی گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔

اجئے ماکن نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت کی جانب سے ’این سی اے پی‘ (این سی اے پی) کے تحت کروڑوں روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، لیکن زمینی سطح پر اس کے واضح نتائج نظر نہیں آ رہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب اتنی بڑی رقم خرچ کی جا رہی ہے تو پھر آلودگی میں کمی کیوں نہیں ہو رہی۔


صحت کے حوالے سے شائع ہونے والے بین الاقوامی جریدہ ’دی لینسٹ‘ کی 2024 کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ماکن نے بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان میں پی ایم 2.5 آلودگی کے باعث تقریباً 38 لاکھ اموات ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فضائی آلودگی اب ایک سنگین صحت عامہ کا بحران بنتی جا رہی ہے۔ ماکن کے مطابق یہ تمام اعداد و شمار دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی یعنی ’ڈی پی سی سی‘ کے مانیٹرنگ اسٹیشنوں سے حاصل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آلودگی پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ دہلی کے شہریوں کو صاف اور محفوظ فضا فراہم کی جا سکے۔