دہلی: محلہ کلینک کی دوائی لینے سے 3 بچوں کی موت، 13 داخل اسپتال، 3 ڈاکٹر برخاست

دہلی حکومت نے سی ڈی ایم او ڈاکٹر گیتا کی قیادت میں ایک جانچ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کو سات دنوں کے اندر اپنی رپورٹ دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ڈاکٹر، تصویر آئی اے این ایس
ڈاکٹر، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی حکومت نے محلہ کلنک کے تین ڈاکٹروں کو برخاست کردیا۔ یہ فیصلہ مرکزی حکومت کی رپورٹ کے بعد کیا گیا، جس میں ان ڈاکٹروں کے ذریعہ دی گئی دوائی کی وجہ سے تین بچوں کی موت واقع ہو گئی اور دیگر 13 اسپتال میں داخل ہیں۔ دہلی حکومت نے بیان جاری کرکے کہا ہے کہ دہلی کے کلاوتی شرن اسپتال میں ہوئی تین بچوں کی بدقستی سے موت پر سخت کارروائی کی گئی ہے۔ حکومت نے تینوں ڈاکٹروں کو برخاست کردیا ہے اور معاملے کی جانچ کے حکم دے دیئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے دہلی میڈیکل کونسل کو خط لکھ معاملے کی جانچ کر کے جلد رپورٹ دینے کا حکم دیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی دہلی حکومت نے سی ڈی ایم او ڈاکٹر گیتا کی قیادت میں ایک جانچ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کو سات دنوں کے اندر اپنی رپورٹ دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جانچ کمیٹی کی صدر ڈاکٹر گیتا کے ساتھ نوڈل افسر اے سی ڈی ایم او ڈاکٹر انجم بھوٹیا اے سی ڈی ایم او اندو سرنا، ایم او سی پی اے انشل مودگل رکن ہیں۔


مرکزی وزارت صحت کے تحت طبی خدمات ڈائریکٹوریٹ (ڈی جی ایچ ایس) کے ڈاکٹر سنیل کمار نے 7 دسمبر کو دہلی حکومت کو خط لکھ کر ان کلینکوں میں ڈاکٹروں کو ڈیکسٹرومیتھرافرن دوا لکھنے سے روکنے کے لئے نوٹس جاری کرنے کو کہا تھا۔ ان کے خط کو مرکز کے ذریعہ چلائے جا رہے لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج کے کلاوتی سرن اسپتال میں مبینہ ڈیکسٹرومیتھرافرن کے زہر کے 16 معاملوں کا پتہ چلا تھا۔ وہیں ڈاکٹر کمار نے خط لکھ کر محلہ کلینک کے ڈاکٹروں کے ذریعہ ڈیکسٹرومیتھرافرن کے مسلسل استعمال کو ان بچوں کی موت کی وجہ بتایا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔