سائبر جعلسازوں نے ایم بی بی ایس طالبہ سمیت 3 خواتین کو بنایا نشانہ، ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کر لوٹ لیے لاکھوں روپے

جعلسازوں نے تینوں خواتین کو اس حد تک خوفزدہ کردیا تھا کہ وہ پوری طرح ان کے اشاروں پر چلنے کے لیے مجبور ہو گئی تھیں۔ شدید دباؤ اور پریشانی کے باوجود متاثرین نے اس سلسلے میں کسی سے رابطہ تک نہیں کیا۔

<div class="paragraphs"><p>سائبر فراڈ / علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ملک میں بڑھتے ہوئے سائبر فراڈ پر شکنجہ کسنے اور شہریوں کے مالی لین دین کو محفوظ بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے کئے جارہے دعوؤں کے درمیان قومی راجدھانی سے ملحق نوئیڈا کے سیکٹر 74 میں واقع سپرٹیک کیپ ٹاؤن سوسائٹی سے سائبر فراڈ کا ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ سائبر جعلسازوں نے ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کی حرکت کر کے 2 بزرگ خواتین اور ایک ایم بی بی ایس طالبہ کو 6 دن تک اپنے جال میں پھنسا کر رکھا اور پھر اس دوران ان کے لاکھوں روپے ہڑپ کرلیے۔ اس واردات سے متاثرین اس قدر خوفزدہ ہوئے کہ انہوں نے کسی سے رابطہ تک نہیں کیا۔

اطلاعات کے مطابق جعلسازوں نے سرکاری ایجنسیوں اور پولیس افسران کا روپ دھار کر خواتین کو فون کالز کے ذریعے ڈرایا دھمکایا۔ انہیں کہا گیا کہ ان کے خلاف سنگین مقدمہ درج ہے اور انہیں ڈیجیٹل گرفتاری میں رکھا گیا ہے۔ اس کے بعد فون اور ویڈیو کالز کے ذریعے ان پر مسلسل نظر رکھی گئی جس سے وہ شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہوگئے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سوسائٹی میں پڑوسیوں نے دیکھا کہ خواتین کئی دنوں سے اپنے فلیٹ سے باہر نہیں نکلی ہیں۔ اس پر انہیں شک ہوا اور فوراً سوسائٹی کے اے او اے کو اطلاع دی۔ اے او اے کی ٹیم سیکورٹی عملے کے ساتھ فلیٹ پر پہنچی۔ دروازہ کافی دیر تک نہیں کھلا۔ کافی دیر بعد جب کسی طرح دروازہ کھولا گیا تو اندر کا منظر دیکھ کر سبھی حیران رہ گئے۔ خواتین انتہائی خوف کی کیفیت میں تھیں۔


اس معاملے کا سب سے چونکا دینے والا پہلو یہ رہا کہ ایک ایم بی بی ایس کی طالبہ بھی سائبر فراڈ کرنے والوں کے کنٹرول میں تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ طالبہ پریکٹیکل کے لیے کالج جاتی تھی لیکن جعلساز اس کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ جب طالبہ کالج گئی تو اس کی ماں کو کار بٹھاکر فون پر ڈیجیٹل گرفتاری میں رکھا جاتا تھا۔ جعلسازوں نے تینوں خواتین کو اس حد تک خوفزدہ کردیا تھا کہ وہ پوری طرح ان کے اشاروں پر چلنے کے لیے مجبور ہوگئی تھیں۔

معاملے کی اطلاع ملتے ہی سیکٹر 113 تھانے کی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور تینوں خواتین سے بات چیت کی۔ پولیس نے انہیں سمجھایا کہ ڈیجیٹل گرفتاری جیسا کوئی قانونی طریقہ کار نہیں ہے اور یہ سائبر فراڈ کا ایک نیا طریقہ ہے۔ اب پولس پورے معاملے کی جانچ میں مصروف ہے۔