دہلی: ساؤتھ-ویسٹ سائبر پولیس نے سرمایہ کاری کے نام پر فراڈ کرنے والے ایک بڑے گروہ کا کیا پردہ فاش، 11 افراد گرفتار

فی الحال تمام ملزمان سے پوچھ تاچھ جاری ہے اور پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس گروہ سے وابستہ اور کتنے افراد ہیں اور کتنے لوگوں کو انہوں نے اپنا شکار بنایا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دہلی کے ساؤتھ-ویسٹ ضلع کی سائبر پولیس نے ایک بڑے ’انویسٹمنٹ فراڈ ریکیٹ‘ کا پردہ فاش کیا ہے، جو دہلی، راجستھان اور ممبئی سے آپریٹ ہو رہا تھا۔ اس پورے معاملہ میں پولیس نے 11 سائبر ٹھگوں کو گرفتار کیا ہے، جو لوگوں کو ’ہائی ریٹرن آن انویسٹمنٹ‘ (سرمایہ کاری کے نام پر زیادہ منافع) کا لالچ دے کر دھوکہ دہی کرتے تھے۔ اس گروہ کا شکار ایک 60 سال کے بزرگ شخص بھی ہوئے، جن سے تقریباً 22.67 لاکھ روپے کی ٹھگی کی گئی۔

دہلی پولیس نے ملزمان کے پاس سے بھاری مقدار میں سامان بھی برآمد کیا ہے، جس میں 40 موبائل فون، 92 جعلی سم کارڈ، 39 پاس بک اور چیک بک، 27 اے ٹی ایم کارڈ، 4 پین کارڈ، ایک لیپ ٹاپ، ایک ڈیسک ٹاپ، 2 پی او ایس مشین، 6 یو پی آئی اسکینر، ایک پرنٹر اور کئی فرضی دستاویزات شامل ہیں۔ یہ دستاویزات خاص طور پر فرضی بینک اکاؤنٹ کھولنے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔


واضح رہے کہ پورا معاملہ 21 نومبر 2025 کو سامنے آیا، جب متاثرہ نے سائبر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ فیس بک پر ایک اشتہار کے ذریعہ انہیں سرمایہ کاری کا آفر ملا، جس میں وزیر خزانہ کی تقریر کا غلط استعمال کیا گیا تھا اور اے آئی پر مبنی ٹریڈنگ سے بہت زیادہ منافع کمانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ جیسے ہی انہوں نے اس لنک پر رجسٹریشن کیا، ٹھگوں نے ان سے رابطہ کرنا شروع کر دیا۔ خود کو انویسٹمنٹ ایڈوائزر بتا کر ملزمان نے فون اور واٹس ایپ کے ذریعہ بات چیت شروع کی اور انہیں ’مُدرا ون‘ ایپ اور ’9 پرو‘ جیسے پلیٹ فارم پر رجسٹر کرایا۔ اس کے بعد ان سے ’کریوویا ٹیکنالوجی پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کے نام پر رقم کی سرمایہ کاری کروائی گئی۔ شروع میں سب کچھ صحیح دکھایا گیا، لیکن جیسے ہی بڑی رقم ٹرانسفر ہوئی، ملزمان اچانک غائب ہو گئے اور ان کا رابطہ مکمل طور سے منقطع ہو گیا۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سائبر پولیس نے ایک اسپیشل ٹیم بنائی اور تحقیقات شروع کر دی۔ تحقیقات کے دوران پولیس نے منی ٹریل اینالیسس، کال ڈیٹیل ریکارڈ، ڈیجیٹل فٹ پرنٹ، سوشل میڈیا اینالیسس اور ٹیکنیکل سرویلنس جیسے کئی جدید طریقوں کا استعمال کیا۔ ان تمام کوششوں کے بعد پولیس کو پتہ چلا کہ یہ گروہ دہلی کے روہنی اور نیتاجی سبھاش پلیس سے آپریٹ ہو رہا ہے۔ جانچ کے دوران پولیس کو ممبئی اور راجستھان کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل کنیکشن کا بھی پتہ چلا۔ دہلی اور ممبئی میں بیٹھے یہ ملزمان دراصل کمبوڈیا میں بیٹھے سائبر ٹھگوں کے لیے کام کر رہے تھے۔


اس پورے معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے مجموعی طور پر 11 لوگوں کو گرفتار کر ایک بڑے سائبر فراڈ کے نیٹورک کا انکشاف کیا۔ فی الحال تمام ملزمان سے پوچھ تاچھ جاری ہے اور پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس گروہ سے وابستہ اور کتنے افراد ہیں اور کتنے لوگوں کو انہوں نے اپنا شکار بنایا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔