ای-سم کے نام پر دھوکہ دہی: موبائل سے پہلے نیٹورک غائب، پھر اکاؤنٹ سے 11 لاکھ روپے اڑا لیے ’سائبر فراڈ‘
ای-سم فراڈ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ نامعلوم شخص کے ساتھ او ٹی پی شیئر نہ کریں اور نہ ہی کسی لنک پر کلک کریں۔ اگر آپ کو ای-سم چاہیے تو براہ راست کمپنی کے آؤٹ لیٹ پر پہنچے اور ان سے مدد طلب کریں۔

ممبئی کی ایک خاتون کو سائبر مجرم نے ای-سم کے نام پر دھوکہ دہی کا شکار بنایا۔ کچھ ہی منٹوں کے اندر خاتون کے بینک کھاتے سے 11 لاکھ روپے اڑا لیے گئے۔ یہ معلومات سائبر دوست آئی4سی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں شیئر کی ہے۔ سائبر دوست آئی4سی اصل میں وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والی نوڈل ایجنسی ہے۔ سائبر دوست کا کام عام لوگوں کو سائبر فراڈ کے متعلق آگاہ کرنا ہے۔
آئیے اب جانتے ہیں کہ ای-سم کے ذریعہ کیسے لوگوں کو فراڈ کا شکار بنایا جاتا ہے۔ سائبر اسکیمر خود کو ٹیلی کام کمپنی کا ملازم بتاتے ہیں، سم اپگریڈ یا ای-سم کنورژن کے نام پر رابطہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد ای-سم میں کنورٹ کرانے کو کہتے ہیں۔ ای-سم اصل میں ایک ورچوئل سم ہوتی ہے۔ ای-سم کے پس پردہ سائبر اسکریمر مختلف بہانے بناتے ہیں۔ کبھی بولیں گے کہ آپ کی پرانی سم خراب ہو گئی ہے اور کبھی کہیں گے کہ بہتر نیٹورک اور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے لیے ای-سم کافی مفید ہے۔
ای-سم کے متعلق صارف کی ایک بار رضامندی حاصل کرنے کے بعد سائبر فراڈ اگلا قدم اٹھاتے ہیں۔ سائبر مجرم متاثرہ کو ایک لنک پر کلک کرنے کو کہتے ہیں یا پھر متاثرہ کو او ٹی پی شیئر کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد جیسے ہی لنک یا او ٹی پی شیئر کرتے ہیں، سائبر مجرم اپنے فون میں ای-سم کو فعال کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں بینکنگ ایپس، یو پی آئی اور کریڈٹ کارڈ سے متعلق تمام او ٹی پی کا ایکسیس مل جاتا ہے۔ اسکیمر پھر تمام بینک اکاؤنٹ، کریڈٹ کارڈ اور یو پی آئی کی مدد سے بینک کھاتے کو خالی کر دیتے ہیں۔ جب تک متاثرہ شخص کو کچھ سمجھ آئے، اس سے پہلے ہی رقم میول اکاؤنٹس وغیرہ میں منتقل کر کے نکال لی جاتی ہے۔
ای-سم فراڈ سے کیسے بچیں؟
نامعلوم کوئیک رسپانس کوڈ (کیو آر کوڈ) کو اسکین کریں۔
کے وائی سی اپڈیٹ کے نام پر کسی بھی نامعلوم کال پر بھروسہ نہ کریں۔
ٹیلی کام کے آفیشل ایپ یا ویب سائٹ سے ہی ای-سم ایکٹیویٹ کریں۔
اپنے بینک اکاؤنٹ میں ’سم چینج الرٹ‘ کو ہمیشہ آن رکھیں۔
ان سب کے علاوہ حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ نامعلوم شخص کے ساتھ او ٹی پی شیئر نہ کریں اور نہ ہی کسی لنک پر کلک کریں۔ اگر آپ کو ای-سم چاہیے تو براہ راست کمپنی کے آؤٹ لیٹ پر پہنچے اور ان سے مدد طلب کریں۔