حکومت نے کہا اسیپشل ٹرین کا نہیں لگے گا کرایہ، راستے میں مزدوروں سے ہوئی وصولی

مہاراشٹر کے ناسک سے بھوپال پہنچے مہاجرین نے بتایا کہ ”کہا گیا تھا پیسے نہیں لیے جائیں گے، لیکن بھوپال پہنچنے سے پہلے ہی ان سے 305 روپے والے ٹکٹ کے عوض 315 روپے وصول کیے گئے۔“

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لاک ڈاؤن کے درمیان دوسری ریاستوں میں پھنسے مزدوروں اور طلبا کے لیے اسپیشل ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں۔ پہلی ٹرین تلنگانہ سے جھارکھنڈ کے لیے چلی۔ اس کے بعد راجستھان اور مہاراشٹر سے بھی ٹرینیں مدھیہ پردیش، بہار اور جھارکھنڈ کے لیے روانہ ہوئیں۔ پہلے یہ کہا گیا تھا کہ ان ٹرینوں سے سفر کرنے والے لوگوں سے کرایہ نہیں وصول کیا جائے گا۔ لیکن اسپیشل ٹرینوں میں سوار لوگوں سے اب کرایہ بھی وصول کیا جا رہا ہے۔

ہندی نیوز پورٹل 'جن ستّا' میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر کے ناسک سے بھوپال پہنچے مہاجرین کا کہنا ہے کہ بھوپال پہنچنے سے پہلے ہی ان سے 305 روپے والے ٹکٹ کے لیے 315 روپے فی مسافر وصول کیے گئے۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ انھیں کہا گیا تھا کہ پیسے نہیں لیے جائیں گے اور مفت میں انھیں بھوپال تک پہنچایا جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

دراصل مرکزی حکومت نے اس کے لیے ایک گائیڈ لائن جاری کی تھی جس میں 6 خصوصی ٹرینوں کے لیے مسافر کرایہ کا خرچ یا تو جس ریاست سے مہاجر جا رہے ہیں وہاں کی حکومت برداشت کرے گی یا تو جن ریاستوں میں یہ مہاجر جا رہے ہیں وہاں کی حکومت برداشت کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ریلوے نے ان 6 ٹرینوں میں سلیپر کلاس کے کرایہ کے علاوہ 30 روپے کا سپر فاسٹ چارج بھی لگایا۔ 20 روپے ٹکٹ کے نام پر بھی وصول کیے گئے ہیں۔ ان پیسوں کے عوض میں کھانا دستیاب کرانے کی سہولت بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کو طلبا اور مزدوروں کے لیے 6 خصوصی ٹرینیں چلائی گئی تھیں۔ پہلی ٹرین تلنگانہ کے لگم پلی اسٹیشن سے جھارکھنڈ واقع ہٹیا کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ ان کے علاوہ کیرالہ کے الوا سے اڈیشہ کے بھونیشور، مہاراشٹرک کے ناسک سے یو پی کے لکھنؤ، ناسک سے بھوپال، راجستھان کے جے پور سے بہار کے پٹنہ اور راجستھان کے کوٹہ سے جھارکھنڈ کے رانچی تک خصوصی ٹرینیں چلی تھیں۔

مسافروں کے ٹرین میں سوار ہونے سے پہلے ان کی تھرمل اسکریننگ کی گئی اور انھیں پروٹیکٹیو گیئرس دیئے گئے۔ ٹرینوں میں سماجی فاصلہ کا بھی خیال رکھا گیا اور ایک کوچ میں صرف 54 مسافروں کو ہی بیٹھنے کی اجازت دی گئی۔ مسافروں کو راستے کے لیے کھانا اور پانی بھی دستیاب کرایا گیا تھا۔ حالانکہ اس کے پیسے بھی ٹکٹ میں جوڑے گئے تھے۔