چنئی: مسلم خاتون کورونا سے صحتیاب، مگر فرقہ وارانہ بدسلوکی کی شکار

کووڈ-19 سے متاثرہ چنئی کی رہائشی ایک 55 سالہ مسلم خاتون جب صحتیاب ہونے کے بعد اپنے گھر پہنچی تو اسے فرقہ وارانہ بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا، خاتون کے وکیل بھائی نے سوشل میڈیا پر پورا واقعہ بیان کیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

چنئی میں مقیم ایک ڈاکٹر کی کووڈ-19 کے سبب وفات کے بعد مقامی لوگوں کے تدفین سے انکار کر دینے کے بعد، شہر میں ایک اور افسوسناک واقعہ رونما ہوا ہے۔ ’کوئنٹ‘ ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایک 55 سالہ مسلم خاتون کو اس وقت فرقہ وارانہ بدسلوکی اور گالی گلوچ کا نشانہ بنایا گیا جب وہ کووڈ-19 سے صحتیاب ہونے کے بعد نجی اسپتال سے فارغ ہو کر گھر پہنچی تھی۔

خاتون کے بھائی اے جے جاوید جوکہ ایک وکیل بھی ہیں، نے بدھ کے روز یہ واقعہ فیس بک پر بیان کیا، انہوں نے فیس بک پر لکھا کہ ان کی بہن کو اپنے پڑوسیوں کے ہاتھوں مشکلات اور تذلیل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ خاتون اور ان کے 68 سالہ شوہر مارچ کے آخری ہفتے میں کورونا وائرس ٹیسٹ میں پازیٹو پائے جانے کے بعد مارچ کے آخری ہفتہ میں اپولو اسپتال، وانگرم میں علاج کرایا تھا۔ خاتون کو بدھ کے روز صحتیاب ہونے کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا جبکہ ان کے شوہر اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

جاوید نے کہا، کہ ’’میری بہن اور ان کے شوہر چنئی میں ایک اپارٹمنٹ کمپلیکس کے نزدیک رہائش پذیر ہیں۔ میرے بہنوئی تاحال اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، چونکہ وہ کافی کمزور ہو چکے ہیں لہذا وہ مزید کچھ وقت کے لئے اسپتال میں رہنا چاہتے ہیں۔ تاہم، کووڈ-19 کی ان کی رپورٹ منفی آ چکی ہے۔ بدھ کے روز جب میری بہن کپڑے سکھانے کے لئے بالکنی میں گئی تو اپارٹمنٹ کمپلیکس کا ہی ایک رہنے والا شخص ان پر چلایا، ان پر فرقہ وارانہ طعنہ زنی اور نازیبا الفاظ بھی کہے۔‘‘

بدسلوکی کرنے والے شخص نے خاتون کو ’تبلیغی‘ بھی کہا۔ واضح رہے کہ ’تبلیغی‘ لفظ کا استعمال آج کل فرقہ پرستوں کی جانب سے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ اس کی شروعات اس وقت ہوئی تھی جب دہلی کے نظام الدین میں واقع تبلیغی جماعت مرکز میں کچھ لوگ جمع تھے اور ان میں سے کچھ لوگوں میں کووڈ-19 کی بھی تصدیق ہوئی تھی۔

جاوید نے مزید کہا، ’’میرے بہنوئی کبھی دہلی کے تبلیغی اجتماع میں شامل نہیں ہوئے، وہ لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے ایک دن پہلے تک بلاناغہ اپنے آفس جاتے رہے تھے۔‘‘ جاوید کے لئے انتہائی شرمناک بات یہ ہے کہ ان کی بہن کی بلڈنگ میں گراؤنڈ فلور پر رہنے والے مالک مکان کو بھی اس سب کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جاوید نے کہا، ’’جیسے ہی پڑوس والوں کو معلوم ہوا کہ میری بہن کورونا کے علاج کے بعد گھر واپس آ گئی ہیں تو انہوں نے محکمہ فائر کو کال کر کے پوری بلڈنگ کو پانی سے صاف کروایا۔ مالک مکان کو کوڑا وغیرہ ڈالنے کے لئے بھی باہر نکلنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ مالک مکان نے اپنے بیٹے کو آدھی رات اپنے رشتہ دار کے گھر بھیج کر راشن اور دوسری ضروری اشیا منگوائی کیوںکہ انہیں دن کے وقت گھر سے باہر نکلنے نہیں دیا جا رہا ہے۔‘‘

Published: 2 May 2020, 2:11 PM