مسجد حرام میں نماز تراویح کے دوران جسمانی دوری پر کیسے عمل کیا جا رہا ہے؟

حرمین پریزیڈنسی کے چیئرمین الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمان بن عبدالعزیز السدیس کا کہنا ہے کہ حرمین شریفین میں تراویح کے بجائے صرف عشاء کی نماز ادا کی جائے گی جب کہ تراویح کے بجائے تہجد کی نماز ادا کی جائے گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

الریاض: سعودی عرب میں حرمین شریفین کے انتظامی امور کے ذمہ دار ادارے 'حرمین جنرل پریزیڈنسی' کی طرف سے کرونا وائرس کے پیش نظر مسجد حرام میں سماجی فاصلے کے اصول اور صحت سے متعلق جاری کردہ پروٹوکول پرعمل درآمد شروع کرا دیا ہے۔

مسجد حرام میں نماز تراویح کے دوران جسمانی دوری پر کیسے عمل کیا جا رہا ہے؟

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مسجد حرام اور صحن بیت اللہ میں نماز تراویح کے دوران نمازیوں کی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں نمازیوں کو فاصلے پرکھڑے دیکھا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی ہدایت اور وزارت صحت کی طرف سے فراہم کردہ سفارشات کے بعد حرمین پریزیڈنسی کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال کے تناظر میں نماز تراویح پانچ تسلیمات (سلام) پر مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ تکمیل قرآن نماز تہجد میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ شاہ سلمان نے حرمین شریفین میں پانچ سلاموں کے ساتھ نماز تراویح اور نماز تہجد میں تکمیل قرآن کی ہدایت کی تھی۔

حرمین پریزیڈنسی کے چیئرمین الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمان بن عبدالعزیز السدیس کا کہنا ہے کہ نمازوں اور تراویح میں اختصار کرونا وبا کے خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین میں تراویح کے بجائے صرف عشاء کی نماز ادا کی جائے گی جب کہ تراویح کے بجائے تہجد کی نماز ادا کی جائے گی۔

(العربیہ ڈاٹ نیٹ)

Published: 2 May 2020, 2:40 PM