کورونا وبا: یو پی کے وزیر صحت نے ہی کھول دی وزیر اعلیٰ یوگی کے دعووں کی قلعی

وزیر صحت جے پرتاپ سنگھ نے کہا کہ یو پی میں رسم ہے کہ جس کی موت بیماری کے سبب ہوتی ہے اس کی آخری رسومات ریت میں گاڑ کر ادا کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گنگا کنارے بڑی تعداد میں لاشیں گاڑی گئیں۔

جے پرتاپ سنگھ، تصویر آئی اے این ایس
جے پرتاپ سنگھ، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کورونا وبا پر قابو پانے کو لے کر ہمیشہ بڑے بڑے دعوے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت ان دعووں سے بالکل الگ ہے۔ اس بات کا اعتراف اب یو پی کے وزیر صحت جے پرتاپ سنگھ نے بھی کر لیا ہے۔ انھوں نے وزیر اعلیٰ یوگی کے دعووں کی قلعی کھولتے ہوئے کہا ہے کہ پنچایت الیکشن کے بعد یو پی میں کورونا کے معاملے تیزی سے بڑھے۔ جے پرتاپ نے ساتھ ہی اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ یو پی میں کئی لاشیں گنگا کنارے ریت میں دفنائی گئی ہیں اور کئی لاشیں گنگا میں بہا دی گئیں۔

دراصل ’نیوز 18‘ پر ایک ٹی وی مباحثہ کے دوران اتر پردیش کے وزیر صحت جے پرتاپ سنگھ نے کہا کہ گزشتہ دنوں کئی لاشیں گنگا کے کنارے ریت میں گاڑ دی گئیں، اور بڑی تعداد میں مہلوکین کی لاش کو گنگا میں بہا بھی دیا گیا۔ ساتھ ہی انھوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ پنچایت الیکشن کے بعد کورونا کا انفیکشن کافی تیزی کے ساتھ پھیلا۔ انھوں نے کہا کہ ’’کورونا پر قابو کے لیے ہم لوگوں نے ایک مہم بھی چلائی۔ لیکن گاؤں میں یہ دیکھنے کو ملا کہ اس بدلتے موسم کے سبب کئی لوگوں کو سردی، بخار، ہوا اور اچانک ہی طبیعت بگڑنے کی وجہ سے اسپتال لے جاتے وقت انتقال ہو گیا۔‘‘


جے پرتاپ سنگھ نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش میں یہ رسم ہے کہ جس کی موت بیماری کے سبب ہوتی ہے اس کی آخری رسومات ریت میں گاڑ کر ادا کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گنگا کنارے بڑی تعداد میں لاشیں گاڑی گئیں۔ ٹی وی مباحثہ کے دوران وزیر صحت نے ٹیکہ کاری کو لے کر بھی اپنی بات سامنے رکھی۔ انھوں نے کہا کہ جون مہینے سے ریاست میں مناسب مقدار میں ویکسین ملنی شروع ہو جائے گی۔ ویکسین حاصل ہونے کے ساتھ ہی 45 سال سے کم عمر کے لوگوں کی بھی تیزی کے ساتھ ٹیکہ کاری ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔