شرجیل عثمانی کے خلاف بی جے پی لیڈر نے درج کرائی ایف آئی آر

ایف آئی آر بی جے پی لیڈر نوین کمار کی شکایت پر دہلی کے لکشمی نگر تھانہ میں درج کی گئی ہے۔ نوین کمار نے شرجیل عثمانی پر ٹوئٹ کے ذریعہ مذہبی جذبات مشتعل کرنے کا الزام لگایا ہے۔

شرجیل عثمانی، تصویر آئی اے این ایس
شرجیل عثمانی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طالب علم شرجیل عثمانی ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ ان کے خلاف دہلی میں ایک ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے جس میں ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ یہ ایف آئی آر بی جے پی لیڈر نوین کمار کی شکایت پر دہلی واقع لکشمی نگر تھانہ میں درج کی گئی ہے۔ نوین کمار نے شرجیل عثمانی پر ٹوئٹ کے ذریعہ مذہبی جذبات مشتعل کرنے کا الزام لگایا ہے۔

دراصل شرجیل عثمانی نے حال ہی میں کچھ ٹوئٹ کیے تھے جن کو لے کر تنازعہ بھی ہوا تھا۔ الزام لگایا گیا کہ شرجیل نے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کے مقصد سے ہی یہ ٹوئٹ کیے ہیں۔ اس کے بعد بی جے پی لیڈر نے لکشمی نگر تھانہ میں شکایت کی۔ پولس نے آئی پی سی کی دفعہ 505 کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔


واضح رہے کہ شرجیل عثمانی کا تعلق اتر پردیش کے اعظم گڑھ سے ہے اور ان کے والد طارق عثمانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ شرجیل عثمانی اے ایم یو میں بی اے کی تعلیم حاصل کر رہے تھے، لیکن 2018 میں انھوں نے پڑھائی چھوڑ دی۔ اس کے باوجود وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا سے لگاتار رابطے میں رہے۔ شرجیل عثمانی گزشتہ کچھ سالوں سے کافی تنازعہ کا شکار رہے ہیں۔ اے ایم یو میں جب سی اے اے کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تو شرجیل عثمانی اس مظاہرے کا اہم چہرہ بنے۔ اس تعلق سے ان کے خلاف کئی شکایتیں بھی تھانوں میں درج ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 22 May 2021, 4:11 PM