یوپی: کورونا کی دوسری لہر کے دوران 52 میں سے 10 اسپتالوں نے کی آکسیجن کی بربادی

آئی آئی ٹی کانپور نے مئی مہینہ کے دوران اتر پردیش کے اسپتالوں میں آکسیجن کی بربادی پر ریاستی حکومت کو ایک رپورٹ سونپی ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 10 اسپتالوں کو آکسیجن برباد کرتے ہوئے پایا گیا۔

آکسیجن، تصویر یو این آئی
آکسیجن، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

کورونا کی دوسری لہر کے دوران سب سے زیادہ اموات آکسیجن کی کمی کے سبب ہوئی ہیں۔ کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب لوگ آکسیجن کے لیے پریشان نہ ہو رہے ہوں۔ اس درمیان آئی آئی ٹی کانپور نے مئی مہینے کے دوران اتر پردیش کے اسپتالوں میں آکسیجن کی بربادی کو لے کر ریاستی حکومت کو ایک رپورٹ سونپی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مختلف اضلاع کے 52 اسپتالوں میں سے 10 کو آکسیجن کی بربادی یا فی مریض ضروری مقدار سے زیادہ آکسیجن کا استعمال کرتے پایا گیا۔

رپورٹ تیار کرنے والی ٹیم کے مطابق حکومت کے ذریعہ اسپتالوں کی فہرست فراہم کی گئی تھی جن میں سے بیشتر سرکاری اسپتال ہیں۔ ریسرچ میں شامل این سی آر اضلاع سے گریٹر نوئیڈا میں جی آئی ایم ایس، میرٹھ میں این سی آر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور ایل ایل آر ایم غازی آباد میں سنتوش میڈیکل کالج اور ہاپوڑ میں رام میڈیکل کالج شامل تھے۔ حالانکہ ان میں سے کوئی بھی بہت زیادہ آکسیجن کا استعمال نہیں کر رہا تھا۔ ٹیم نے آکسیجن کی فراہمی کے لیے اسپتالوں کے ذریعہ استعمال کی جانے والی مختلف اشکال کی اشیاء، استعمال کی جانے والی آکسیجن کی مقدار اور آکسیجن کا استعمال کرنے والے مریضوں کی تعداد کے بارے میں جانکاری جمع کی۔ اس کا موازنہ پیمائش والے استعمال سے کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ خرچ کتنا زیادہ تھا۔


ریسرچ کی قیادت کر رہے آئی آئی ٹی کانپور کے ڈپٹی ڈائریکٹر پروفیسر منیندر اگروال نے کہا کہ ’’آکسیجن فراہمی کے لیے مختلف طرح کی مشینوں، مختلف انداز کے ماسک اور ونٹی لیٹر ہیں۔ ان سبھی کے خرچ کا ایک پیمانہ ہے۔ ہم نے ان پیمانوں کا موازنہ اوسط سے کیا ہے۔ ان اسپتالوں میں روزمرہ خرچ میں پایا گیا ہے کہ 10 اسپتال بہت زیادہ مقدار میں چیزوں کا استعمال کر رہے تھے۔ ہم نے آگے اصلاحی اقدام کے لیے ریاست کے سامنے ریزلٹ پیش کیا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔