’کسانوں کی خودکشی کے لیے مرکز کی ناکام پالیسیاں ذمہ دار‘، کانگریس نے مودی حکومت کو بنایا تنقید کا نشانہ

کانگریس کسانوں کے ایشو پر مودی حکومت پر حملہ آور نظر آ رہی ہے، پارٹی ترجمان سپریا شرینیت نے منگل کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم مودی اور مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

سپریا شرینیت
سپریا شرینیت
user

قومی آوازبیورو

کانگریس کسانوں کے ایشو پر مودی حکومت پر حملہ آور نظر آ رہی ہے، پارٹی ترجمان سپریا شرینیت نے منگل کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم مودی اور مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس ترجمان نے کہا کہ مودی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے کسان خودکشی کرنے کو مجبور ہو رہے ہیں۔ ملک میں ہر گھنٹے ایک سے زائد کسان اپنی جان لینے کو مجبور ہیں۔ یہ اعداد و شمار فکر انگیز ہیں کہ روزانہ تقریباً 30 کسان خودکشی پر آمادہ ہو رہے ہیں۔

سپریا شرینیت نے کہا کہ 2021 کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق زرعی شعبہ میں 10881 افراد خودکشی کر چکے ہیں۔ خودکشی کی بڑھتی ان تعداد کے لیے مودی حکومت اور اس کی ناکام پالیسیاں ذمہ دار ہیں۔ کانگریس ترجمان نے مزید کہا کہ مودی حکومت کی وجہ سے آج کسانوں کی آمدنی میں کمی ہو گئی ہے۔ مودی حکومت ہر سال زرعی بجٹ کو کم کرتی جا رہی ہے۔ اتنا ہی نہیں زرعی سامانوں پر جی ایس ٹی لگانے کی وجہ سے کسانوں کی لاگت فی ہیکٹیر 25 ہزار روپے بڑھ گئی ہے۔


سپریا شرینیت نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر کسانوں کی خودکشی کو لے کر جھوٹ بولنے کے بھی الزامات عائد کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسی حکومت کے وزراء نے جھوٹ بولا تھا کہ 2014 سے 2021 کے درمیان کسی کسان نے خودکشی نہیں کی ہے۔ جب کہ سچائی سب کو معلوم ہے۔ اعداد و شمار آپ کے سامنے ہیں جو ان کی جھوٹ کو ظاہر کر رہا ہے۔

سپریا شرینیت نے پونے کے ایک کسان کے ذریعہ خودکشی کیے جانے کو لے کر بھی پی ایم مودی پر حملہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’17 ستمبر کو مہاراشٹر کے پونے میں ایک کسان دشرتھ لکشمن کیداری نے وزیر اعظم کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے خودکشی کر لی۔ خودکشی نوٹ میں اس نے لکھا– مودی جی، آپ بس اپنے بارے میں سوچتے ہیں، ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں اور ساہوکار انتظار کرنے کو تیار نہیں ہے۔‘‘


واضح رہے کہ مہاراشٹر کے پونے باشندہ کسان دشرتھ ایل کیداری نے 17 ستمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی کو ان کے یوم پیدائش کی مبارکباد دینے کے بعد تالاب میں کود کر اپنی جان دے دی۔ کیداری نے اپنے خودکشی نوٹ میں ’ہیپی برتھ ڈے ٹو یو پی ایم‘ لکھا اور پھر کہا کہ ریاستی حکومت کی ایم ایس پی یقینی بنانے میں ناکامی کے سبب اسے اپنی زندگی ختم کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑا، کیونکہ اسے قرضداروں کے ذریعہ پریشان کیا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ کس طرح ریاست حال ہی میں آئے سیلاب اور وبا کے نقصان سے تباہ ہوئے پیاز، ٹماٹر اور دیگر کسانوں کو ایم ایس پی نہیں دے رہی تھی۔

خودکشی نوٹ میں کیداری نے کہا کہ ’’ہم کیا کر سکتے ہیں؟ آپ کو صرف اپنی فکر ہے مودی صاحب۔ ہم بھیک نہیں مانگ رہے ہیں، لیکن ہماری وجہ کیا درست ہے۔ ہمیں ایم ایس پی دیا جانا چاہیے کیونکہ ساہوکار ہمیں دھمکا رہے ہیں۔ کسانوں جیسا جوکھم کوئی نہیں لیتا، ہم اپنی شکایت لے کر کہاں جائیں۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔