تلنگانہ بلدیاتی انتخابات: 105 میں سے 84 بلدیات پر کانگریس کا قبضہ، 7 میں سے 6 میونسپل کارپوریشنوں میں بھی برتری
تلنگانہ کے بلدیاتی انتخابات میں کانگریس نے 105 میں سے 84 بلدیات پر قبضہ کر لیا۔ 7 میں سے 6 میونسپل کارپوریشنوں میں بھی میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں پر اس کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب رہے

حیدرآباد: تلنگانہ میں منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں برسراقتدار کانگریس نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریاست کی 105 بلدیات میں سے 84 پر قبضہ جما لیا ہے۔ اس کے علاوہ سات میں سے چھ میونسپل کارپوریشنز میں بھی میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں پر کانگریس یا اس کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں، جس سے ریاستی سیاست میں پارٹی کی پوزیشن مزید مستحکم ہو گئی ہے۔
ریاست میں 11 فروری کو 116 بلدیات اور سات میونسپل کارپوریشنز کے لیے ووٹنگ ہوئی تھی، جبکہ 13 فروری کو نتائج کا اعلان کیا گیا۔ تاہم 11 بلدیات میں نومنتخب کونسلروں کی جانب سے صدر اور نائب صدر کے انتخاب کا عمل مکمل نہیں ہو سکا تھا، جس کے بعد مختلف مقامات پر جوڑ توڑ اور سیاسی حمایت کا سلسلہ جاری رہا۔
مرکزی حزب اختلاف بھارت راشٹر سمیتی کو 17 بلدیات میں اقتدار حاصل ہوا، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو صرف ایک بلدیہ میں کامیابی ملی۔ تین بلدیات میں آزاد امیدوار صدر منتخب ہوئے۔ کانگریس کو 66 بلدیات میں واضح اکثریت حاصل تھی، جبکہ مزید 18 بلدیات میں اس نے دیگر جماعتوں اور آزاد اراکین کی حمایت سے صدر اور نائب صدر کے عہدے حاصل کیے۔
کچھ مقامات پر غیر متوقع سیاسی سمجھوتے بھی دیکھنے میں آئے۔ میڈک ضلع کے نرساپور بلدیہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے صدر کے عہدے کے لیے کانگریس کی حمایت کی، جس کے بدلے کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے کونسلر کو نائب صدر منتخب کرانے میں مدد دی۔ اسی نوعیت کا اشتراک میڈچل ملکاجگری ضلع کے عالیہ آباد میں بھی سامنے آیا۔
رنگا ریڈی ضلع کے امنگل میں بھارت راشٹر سمیتی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت سے صدر کا عہدہ حاصل کیا اور نائب صدر کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کی تائید کی۔ ان نتائج نے واضح کیا کہ مقامی سطح پر سیاسی جماعتیں ضرورت کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک کر رہی ہیں۔
میونسپل کارپوریشنز کی بات کریں تو محبوب نگر، منچیریال، نلگونڈا اور رام گنڈم میں کانگریس نے میئر اور ڈپٹی میئر دونوں عہدوں پر کامیابی حاصل کی۔ کوٹھاگودیم میونسپل کارپوریشن میں کانگریس کی حلیف جماعت سی پی آئی کے موڈ گنیش میئر منتخب ہوئے، جبکہ کانگریس کی ایس للیتا کمار ڈپٹی میئر بنیں۔ اس 60 رکنی کارپوریشن میں کانگریس اور سی پی آئی کو 22، 22 نشستیں ملی تھیں۔
نظام آباد میونسپل کارپوریشن میں کانگریس کی کے اوما رانی کو مجلس اتحاد المسلمین کی حمایت سے میئر منتخب کیا گیا، جبکہ مجلس اتحاد المسلمین کی سلمیٰ تہسین ڈپٹی میئر بنیں۔ اس اتحاد کے ذریعے کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو اقتدار سے دور رکھنے میں کامیابی حاصل کی، جو سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔
البتہ کریم نگر میونسپل کارپوریشن میں کانگریس بھارتیہ جنتا پارٹی کو روکنے میں ناکام رہی۔ 66 رکنی کارپوریشن میں 30 نشستیں جیتنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی نے آزاد اراکین کی حمایت سے میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدے حاصل کر لیے۔
عادل آباد بلدیہ میں آزاد کونسلر بنداری انوشا صدر منتخب ہوئیں، جبکہ مجلس اتحاد المسلمین کے محمد روہت نائب صدر بنے۔ یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت تھی، جبکہ کانگریس کو 11 اور بھارت راشٹر سمیتی و مجلس اتحاد المسلمین کو چھ، چھ نشستیں ملی تھیں۔ پانچ آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے تھے۔ بھینسا بلدیہ میں بھی صدر اور نائب صدر دونوں عہدوں پر آزاد امیدوار کامیاب رہے۔
ان نتائج کو ریاست میں کانگریس کی مضبوط سیاسی واپسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے آئندہ سیاسی حکمت عملیوں پر بھی اثر پڑنے کی توقع ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔