’بی جے پی انتخابات سے قبل دراندازی کا مسئلہ اٹھاتی ہے، پھر خاموش ہو جاتی ہے‘، اتراکھنڈ کانگریس کے نائب صدر کا طنز
سوریہ کانت دھسمانا نے کہا کہ یہ بی جے پی کا ’طریقہ کار‘ بن گیا ہے کہ جیسے ہی ریاست میں انتخابات قریب آتے ہیں، وہ دراندازی کا مسئلہ اٹھاتی ہے اور انتخابات کے بعد یہ موضوع غائب ہو جاتا ہے

اتراکھنڈ کانگریس کے سینئر نائب صدر (تنظیم) اور اے آئی سی سی کے رکن سوریہ کانت دھسمانا نے ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور ہریدوار سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ترویندر سنگھ راوت کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی حکومتوں کو ناکام بتایا۔ سوریہ کانت دھسمانا نے کہا کہ ترویندر کا یہ کہنا کہ ’اتراکھنڈ میں آبادیاتی تبدیلیاں دراندازوں کی وجہ سے ہوئی ہیں اور بی جے پی انہیں باہر کھدیڑے گی‘ براہ راست طور پر مرکز اور ریاست کی بی جے پی حکومتوں کی ناکامی ہے۔
دھسمانا نے کہا کہ بی جے پی ریاست میں گزشتہ 9 سالوں سے اور مرکز میں 11 سال سے زیادہ عرصے سے اقتدار میں ہے۔ ایسی صورت میں ترویندر کا بیان بتاتا ہے کہ ان کی ہی حکومتیں اس معاملے پر پوری طرح ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بی جے پی کا ’موڈس آپرینڈی‘ (طریقہ کار) بن گیا ہے کہ جیسے ہی ریاست میں انتخابات قریب آتے ہیں، وہ دراندازی کا مسئلہ اٹھانا شروع کر دیتی ہے اور انتخابات کے بعد یہ موضوع غائب ہوجاتا ہے۔
کانگریس لیڈر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بہار انتخابات سے پہلے وہاں کے تمام لوگوں کو درانداز قرار دیا گیا تھا، پھر وہ اچانک مغربی بنگال چلے گئے اور اب بی جے پی کہہ رہی ہے کہ وہ اتراکھنڈ پہنچ گئے ہیں۔ دھسمانا نے الزام لگایا کہ ترویندر سنگھ راوت نے 15 دن سے احتجاج کر رہے یو پی این ایل ملازمین کے حق میں کچھ نہیں کہا ہے اور نہ ہی راجدھانی دہرادون میں ہڑتال کر رہے وکلاء کی حمایت میں کچھ کہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ترویندر آبادیاتی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں، جب کہ اس کے لیے سب سے زیادہ ذمہ دار وہی ہیں، کیونکہ اتراکھنڈ میں کانگریس حکومت کے ذریعہ زمین سے متعلق نافذ کیے گئے سخت قانون کو سب سے پہلے ترویندر حکومت نے کمزور کیا۔ میونسپل کارپوریشن، میونسپلٹی اور نگر پنچایت کی سرحدیں بڑھا کر زرعی زمینیں لینڈ مافیا کو فراہم کر دی گئیں جس کی وجہ سے آج حالات مزید خراب ہو چکے ہیں۔ دھسمانا نے کہا کہ بی جے پی اصل مسئلے سے بھٹکانے کی سیاست کر رہی ہے لیکن عوام اب سب کچھ سمجھ چکے ہیں۔