آسارام کے بیٹے نارائن سائی کی بیرک سے موبائل برآمد، سورت واقع جیل کی سکیورٹی پر سوالات
سورت کی لاجپور جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے نارائن سائی کی بیرک سے موبائل، بیٹری اور سم کارڈ برآمد ہوئے۔ موبائل دروازے کے پیچھے مقناطیس سے چپکایا گیا تھا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی

گجرات کی معروف لاجپور سینٹرل جیل ایک بار پھر سخت سوالات کی زد میں ہے، جہاں آسارام کے بیٹے اور ریپ کیس میں عمرقید کی سزا کاٹ رہے نارائن سائی کی بیرک سے ممنوعہ موبائل فون، بیٹری اور سِم کارڈ برآمد ہوئے ہیں۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب جیلر دیپک بھابھور کو 27 نومبر کو خفیہ اطلاع ملی کہ علیحدہ بیرک نمبر 1 میں بند نارائن سائی کے پاس موبائل فون موجود ہے۔ اطلاع ملتے ہی سرچ اسکواڈ نے فوری چھاپہ مارا۔
تلاشی کے دوران بیرک کے لوہے کے دروازے کے پیچھے ایک موبائل فون مقناطیس کے ذریعے چپکایا ہوا ملا، جبکہ بیٹری اور سِم کارڈ پہلے ہی نکال کر الگ جگہوں پر چھپا دئے گئے تھے۔ بعد ازاں مزید تلاشی لینے پر نارائن سائی کے بیگ سے ایک سِم کارڈ برآمد ہوا، جبکہ بیٹری جیل کے سینیٹوریم کے دروازے کے اندر چھپائی گئی تھی۔ ابتدائی جانچ سے ظاہر ہوا کہ وہ فون استعمال کرنے کے بعد بیٹری اور سِم الگ رکھتا تھا تاکہ پکڑے جانے کا خطرہ کم ہو جائے۔
سورت پولیس کے اے سی پی نیرو گوہل نے تصدیق کی کہ جیل انتظامیہ کی شکایت پر سچن پولیس اسٹیشن میں نارائن سائی کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) کی متعلقہ دفعات اور گجرات جیل قوانین کی خلاف ورزی کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ موبائل فون جیل کے اندر کیسے پہنچا، اس میں کس کی مدد شامل تھی اور فون کا استعمال کس مقصد کے لیے ہو رہا تھا۔
خیال رہے کہ لاجپور جیل میں پیش آنے والا اس طرح کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ 11 ماہ میں یہاں سے 12 سے زائد موبائل فون برآمد ہو چکے ہیں، جس سے جیل کی سکیورٹی، نگرانی اور اہلکاروں کی ایمانداری پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ممنوعہ اشیا اکثر ملاقات کے دوران، نئے آنے والے قیدیوں کے ذریعے یا بعض اہلکاروں کی ملی بھگت سے اندر پہنچتی ہیں۔ اس تازہ معاملے میں بھی تفتیش کے دوران مزید انکشافات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جیل حکام نے اس واقعے کے بعد نگرانی مزید سخت کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا اشارہ دیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔