مودی حکومت پر قبائلی حقوق پامال کرنے کا سنگین الزام، اڈیشہ میں کانکنی منصوبہ پر کانگریس نے کی سخت تنقید
جئے رام رمیش نے کہا کہ اڈیشہ اس بات سے ناواقف نہیں کہ کس طرح بڑے ماحولیاتی اثرات رکھنے والے کانکنی منصوبوں کو قانونی اور آئینی تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

کانگریس نے اڈیشہ میں مجوزہ باکسائٹ کانکنی منصوبہ سے متعلق مودی حکومت اور ریاستی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ساتھ ہی حکومت پر قبائلی حقوق کی خلاف ورزی کا سنگین الزام بھی عائد کیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری بیان میں کہا کہ اڈیشہ اس بات سے ناواقف نہیں ہے کہ کس طرح بڑے ماحولیاتی اثرات رکھنے والے کانکنی منصوبوں کو قانونی اور آئینی تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
جئے رام رمیش نے کہا کہ اس سلسلے کی تازہ کڑی رائے گڑھ اور کالاہانڈی اضلاع کے سجیمالی علاقے میں مجوزہ باکسائٹ کانکنی منصوبہ اور اس سے جڑی بنیادی ڈھانچے کی سرگرمیاں ہیں۔ ان کے مطابق اس پورے معاملے میں پنچایت (شیڈولڈ ایریاز تک توسیع) ایکٹ (پیسا) 1996 اور فارسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے) 2006 کی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر منظور شدہ ان قوانین کے تحت متاثرہ افراد، مقامی برادریوں اور گرام سبھاؤں کو جو حقوق دیے گئے ہیں، انہیں یا تو قصداً کمزور کیا گیا یا مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔
جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ چند روز قبل جب مقامی لوگوں نے فطری طور پر احتجاج کیا تو پولیس نے خاص طور پر درج فہرست قبائلی برادریوں، بالخصوص خواتین کے خلاف نامناسب طاقت کا استعمال کیا، جو کہ ایس سی/ایس ٹی (انسداد مظالم) ایکٹ 1989 کی خلاف ورزی ہے۔ کانگریس رہنما نے اس بات پر بھی حیرت ظاہر کی کہ یہ سب کچھ اس ریاست میں ہو رہا ہے جہاں کے وزیر اعلیٰ خود ایک قبائلی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر برائے قبائلی امور بھی اڈیشہ سے ہی ہیں، اس لیے ان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے میں حساسیت کا مظاہرہ کریں۔
جئے رام رمیش نے مطالبہ کیا کہ سجیمالی میں پیش آنے والے حالات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور یہ یقینی بنایا جائے کہ پیسا 1996 اور ایف آر اے 2006 پر قانون اور اس کی روح کے مطابق شفاف، قابل اعتماد اور عوامی شمولیت کے ساتھ عمل کیا جائے۔ کانگریس نے واضح کیا کہ قبائلی علاقوں میں ترقی کے نام پر حقوق کی پامالی کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے اور اس معاملے پر وہ حکومت کو ہدف تنقید بناتی رہے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔