کانگریس نے ’بھارت جوڑو یاترا‘ کو کیا یاد، جئے رام رمیش نے اس کی کامیابی پر ڈالی روشنی

جئے رام رمیش نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعہ یاد دلایا کہ کنیاکماری سے کشمیر تک کی پیدل یاترا 3 سال قبل سری نگر میں راہل گاندھی کی قابل ترغیب تقریر کے ساتھ ختم ہوئی تھی۔

بھارت جوڑو یاترا
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس نے ہفتہ کے روز راہل گاندھی کی قیادت میں نکلنے والی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سیاست میں یہ ایک اہم تبدیلی لانے والا واقعہ تھا۔ اس نے لوگوں تک 3 اہم پیغامات پہنچائے جن میں بڑھتی معاشی نابرابری، گہراتا سماجی پولرائزیشن اور بڑھتی سیاسی آمریت شامل ہے۔ یہ ذکر کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے ’بھارت جوڑو یاترا‘ کو 3 سال مکمل ہونے پر جاری ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کیا ہے۔

جئے رام رمیش نے اس سوشل میڈیا پوسٹ میں یاد دلایا ہے کہ کنیاکماری سے کشمیر تک کی پیدل یاترا 3 سال قبل سری نگر میں راہل گاندھی کی قابل ترغیب تقریر کے ساتھ ختم ہوئی تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’راہل گاندھی اور 200 سے زیادہ بھارت یاتریوں نے کنیاکماری سے کشمیر تک 4000 کلومیٹر کی پیدل یاترا کی۔ 145 دنوں سے زیادہ کی یہ یاترا 12 ریاستوں اور 2 مرکز کے زیر انتظام خطوں سے ہو کر گزری۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’بھارت جوڑو یاترا 30 جنوری 2023 کو ختم ہوئی۔ کنیاکماری سے کشمیر تک تقریباً 4000 کلومیٹر کے اس سفر میں کئی پارٹیوں کے لیڈران نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ حصہ لیا۔‘‘


کانگریس جنرل سکریٹری نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں اس یاترا کی حقیقی کامیابی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’معاشی عدم مساوات میں اضافہ، گہراتے سماجی پولرائزیشن اور سیاسی آمریت میں اضافہ جیسے 3 اہم پیغامات کو لوگوں تک پہنچانے والی یہ یاترا ہمارے ملک کی سیاست میں ایک انتہائی اہم تبدیلی لانے والا واقعہ تھی۔‘‘ انھوں نے اس یاترا کو ہندوستانی سیاست کے لیے اہم قرار دینے کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل سے آشنائی کا بھی بہترین ذریعہ قرار دیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔