ووڈافون آئیڈیا میں حکومت کے ذریعہ شراکت داری بڑھانے پر کانگریس حملہ آور

کانگریس نے ووڈافون آئیڈیا میں حکومت کی شراکت داری بڑھائے جانے کے فیصلہ پر کہا کہ حکومت پبلک سیکٹر اداروں کو فروخت کر رہی ہے اور پرائیویٹ سیکٹر میں شراکت داری خرید رہی ہے جو سمجھداری بھرا قدم نہیں۔

ملکارجن کھڑگے / آئی اے این ایس
ملکارجن کھڑگے / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کانگریس نے ووڈافون آئیڈیا میں حکومت کی شراکت داری بڑھا کر تقریباً 35.8 فیصد کرنے پر سوال اٹھایا ہے۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ حکومت پبلک سیکٹر کے اداروں کو فروخت کر رہی ہے اور نجی سیکٹر میں حصہ داری خرید رہی ہے جو سمجھداری بھرا قدم نہیں ہے۔ اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے بدھ کے روز کہا کہ ’’مرکزی حکومت کے پاس اب ووڈافون-آئیڈیا کا 36 فیصد حصہ ہے۔ جدوجہد کر رہی پرائیویٹ کمپنیوں میں داؤ کیوں لگایا جا رہا ہے، جب ائیر انڈیا جیسے پبلک سیکٹر اداروں کو فروخت کیا جا رہا ہے؟‘‘

کھڑگے نے کہا کہ ’’ایم ٹی این ایل اور بی ایس این ایل کی غیر منقولہ ملکیتیں فروخت کی جا رہی ہیں، لیکن مودی حکومت ووڈافون میں شراکت داری خرید رہی ہے۔ کیا اس کا کوئی مطلب ہے؟‘‘ رپورٹس کے مطابق مرکز کمپنی کے کُل بقایا شیئروں کا تقریباً 35.8 فیصد حصہ رکھے گا اور پرموٹر شیئر ہولڈرس بالترتیب تقریباً 28.5 فیصد (ووڈا گروپ) اور تقریباً 17.8 فیصد (آدتیہ بڑلا گروپ) ہوں گے۔


ٹیلی مواصلات سروس پرووائیڈر کے شیئروں نے دسمبر 2021 میں اپنے 52 ہفتہ کی اعلیٰ سطح 16.79 روپے سے تقریباً 28 فیصد کی گراوٹ درج کی ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ منگل کو شروعاتی کاروبار میں ووڈافون آئیڈیا کے شیئروں میں 19 فیصد کی گراوٹ آئی کیونکہ اس نے اے جی آر اور اسپیکٹرم دینداریوں کو ایکویٹی میں بدلنے کی منظوری دے دی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔