پنجاب کی کانگریس حکومت وردی سے محروم ایک سے آٹھویں جماعت کے طلبا کو مفت وردی دے گی

چنّی کابینہ نے گرونانک دیو یونیورسٹی میں سنت کبیر، بھائی جیون سنگھ جی اور مکھن شاہ لوبانا چیئر اور پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ میں گرو روی داس جی اور بھگوان والمیکی جی کی چیئر قائم کرنے کو منظوری دی۔

چرنجیت سنگھ چنّی، تصویر آئی اے این ایس
چرنجیت سنگھ چنّی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

چندی گڑھ: پنجاب حکومت نے سرکاری اسکولوں میں داخلہ میں اضافہ کرنے، اسکول چھوڑنے کی شرح کم کرنے اور سرکاری اسکولوں کی طرف بچوں کو راغب کرنے کے لئے سرکاری اسکولوں میں پہلی سے آٹھویں جماعت میں وردی سے محروم رہ گئے جنرل زمرہ کے 2.66 لاکھ طلبا کو مفت وردی دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر رواں مالی سال میں 15.98 کروڑ رروپے خرچ ہوں گے۔

وزیراعلی چرنجیت سنگھ چنی کی صدارت میں آج یہاں کابینہ کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ ریاست کے سرکاری اسکولوں میں محکمہ تعلیم کی طرف سے 600 روپے فی طالب علم کے حساب سے پنجاب اسکول ایجوکیشن بورڈ کی طرف سے چلائے جا رہے آدرش اسکولوں کی تمام لڑکیوں، درج فہرست ذات کے لڑکے اور خط افلاس سے نیچے کے کنبوں کے لڑکوں کو ’سمگر شکشا‘ کے اصولوں اور تعلیم کے حق قانون کے تحت مفت وردی دی جارہی ہے۔ ایسے طلبا کی تعداد 15.03 لاکھ ہے جن کے لئے موجودہ مالی سال کے دوران 90.16 کرو ڑ روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔


کابینہ نے امرتسر میں واقع گرونانک دیو یونیورسٹی میں سنت کبیر، بھائی جیون سنگھ/بھائی جیتا جی اور مکھن شاہ لوبانا چیئر اور پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ میں گرو روی داس جی اور بھگوان والمیکی جی کی چیئر قائم کرنے کو بھی منظوری فراہم کی۔ اس کے علاوہ بھگوان پرشورام جی کے نام پر بھی جلد چیئر قائم کی جائے گی۔ حکومت کے یہ فیصلے سماج کی ان عظیم ہستیوں کی بیش قیمتی خدمات کی ریسرچ کرنے اور ان کے بارے میں تحقیق کرنے میں مدد فراہم کریں گے جس سے نئی نسل کو ان کے کاموں کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔