اقتدار کا لالچی بن گیا ’آر ایس ایس‘، ہندوتوا نظریہ پر نفرت اور تشدد پھیلانے والے قابض: دگوجے سنگھ

دگوجے سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’آر ایس ایس رفاہی ادارہ کی جگہ اقتدار کا لالچی بن چکا ہے۔ ان کی ہندوتوا نظریہ پر نفرت اور تشدد پھیلانے والوں کا قبضہ ہو چکا ہے۔ وہی ان کے لیے اب کماؤ بچے ہو چکے ہیں۔‘‘

دگوجے سنگھ، تصویر یو این آئی
دگوجے سنگھ، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر دگوجے سنگھ نے ایک بار پھر آر ایس ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ آر ایس ایس اب اقتدار پر قابض رہنے والا ادارہ بن گیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس کہ ہندوتوا نظریات پر نفرت اور تشدد پھیلانے والوں کا قبضہ ہو چکا ہے۔

دگوجے سنگھ نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے ’’آر ایس ایس رفاہی ادارہ کی جگہ اقتدار کا لالچی بن چکا ہے۔ ان کی ہندوتوا نظریہ پر نفرت اور تشدد پھیلانے والوں کا قبضہ ہو چکا ہے۔ وہی ان کے لیے اب کماؤ بچے ہو چکے ہیں۔‘‘


دگوجے کے بیان کو بی جے پی نے شدید طور پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ریاستی حکومت کے شہری انتظامیہ وزیر بھوپندر سنگھ نے کہا کہ ہمیں دگوجے سنگھ کے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے، یہ سرٹیفکیٹ عوام دیتی ہے۔ جہاں تک آر ایس ایس کی بات ہے، تو اس کی قربانی اور محنت کے بارے میں دگوجے خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے۔ آر ایس ایس کی قربانیوں کے سامنے دگوجے سنگھ بہت چھوٹے ہیں۔

غور طلب ہے کہ ان دنوں دگوجے سنگھ مہنگائی سمیت دیگر مسائل کو لے کر بی جے پی حکومت کے خلاف عوامی بیداری مہم پر نکلے ہوئے ہیں۔ وہ ریاست کے الگ الگ حصوں میں جا رہے ہیں۔ ان کے نشانے پر بی جے پی اور اس کی حکومتیں ہیں۔ اسی درمیان انھوں نے آر ایس ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔