جب سچ بولنے کی سزا ملے تو صاف ہے کہ ’جھوٹ‘ برسراقتدار ہے: راہل گاندھی

ایک ٹوئٹ میں راہل گاندھی نے زرعی قوانین کے خلاف تقریباً ایک سال سے چل رہی کسان تحریک کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ ’’کسان نام کے آگے ’شہید‘ لگانا پڑے تو سمجھ جاؤ کہ حکومت کا ظلم حد سے پار ہو گیا ہے۔‘‘

راہل گاندھی، تصویر ٹوئٹر @INCIndia
راہل گاندھی، تصویر ٹوئٹر @INCIndia
user

قومی آوازبیورو

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے قومی یومِ صحافت پر منگل کے روز مرکز کی مودی حکومت کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ جب سچ بولنے کی سزا ہوتی ہے تو یہ صاف ہے کہ ’جھوٹ‘ برسراقتدار ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پریس کونسل آف انڈیا (پی سی آئی) کے قیام کے موقع پر ہر سال 16 نومبر کو قومی یومِ صحافت منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر راہل گاندھی نے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ ’’جب سچ بولنے کی سزا ہوتی ہے، تو یہ صاف ہے کہ جھوٹ اقتدار میں ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں تریپورہ سمیت کئی مقامات پر صحافیوں کی گرفتاری اور ان پر حملوں کے ساتھ ساتھ اس سے جڑیں خبروں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ تریپورہ میں تشدد کے حالیہ واقعات پر رپورٹ شائع کرنے والی دو صحافیوں کو پولیس کے ذریعہ حراست میں لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ تشدد کی خبروں کو پوسٹ کرنے والے کئی صحافیوں اور عام لوگوں کے خلاف بھی یو اے پی اے کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔ اسے لے کر راہل گاندھی نے اتوار کو بی جے پی حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ یہ صحافت کا ’قتل‘ کرنے میں مصروف ہے۔


بہر حال، آج صبح راہل گاندھی نے مرکز کے متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر تقریباً ایک سال سے چل رہی کسان تحریک کی حمایت میں بھی ایک ٹوئٹ کیا۔ انھوں نے اس میں لکھا کہ ’’جب کسان نام کے آگے ’شہید‘ لگانا پڑے، سمجھ جاؤ کہ حکومت کا ظلم حد سے پار ہو گیا ہے۔ اَن داتا کے ستیاگرہ کو سلام!‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔