کانگریس کی بجٹ اجلاس حکمتِ عملی طے، پہلے مرحلے میں منریگا، خارجہ پالیسی اور روپے کی گرتی قدر پر جارحانہ موقف

کانگریس نے بجٹ اجلاس سے قبل حکمتِ عملی طے کر لی۔ پہلے مرحلے میں منریگا، ایس آئی آر، ماحولیات، جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ، خارجہ پالیسی اور روپے کی گرتی قدر پر حکومت کو گھیرنے کا فیصلہ کیا گیا

<div class="paragraphs"><p>ڈاکٹر سید ناصر حسین / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: کانگریس نے پارلیمنٹ کے 28 جنوری سے شروع ہونے جا رہے بجٹ اجلاس کے لیے اپنی حکمتِ عملی کو حتمی شکل دینے کے مقصد سے پارلیمانی اسٹریٹجی گروپ کی اہم میٹنگ منعقد کی، جو منگل کو سی پی پی چیئرپرسن سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ میٹنگ کی صدارت سونیا گاندھی نے کی، جس میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی اور پارٹی کے سینئر قائدین شریک ہوئے۔ اجلاس میں بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے کے دوران ایوان میں اٹھائے جانے والے اہم سیاسی، سماجی اور اقتصادی موضوعات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سید ناصر حسین کے مطابق، اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پہلے مرحلے میں منریگا سب سے بڑا اور مرکزی مسئلہ ہوگا۔ پارٹی کا موقف ہے کہ حکومت نے اس اسکیم کو کمزور کیا ہے، جس کا براہِ راست اثر دیہی مزدوروں اور کمزور طبقات پر پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایس آئی آر معاملے کو بھی پوری شدت کے ساتھ ایوان میں اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

میٹنگ میں ماحولیاتی خدشات سے جڑے معاملات پر بھی توجہ دی گئی۔ کانگریس نے طے کیا کہ اراولی پہاڑی سلسلے اور گریٹ نکوبار پروجیکٹ سے متعلق امور کو پارلیمنٹ میں نمایاں طور پر پیش کیا جائے گا۔ پارٹی کے مطابق، ان منصوبوں سے ماحولیات، حیاتیاتی تنوع اور مقامی آبادی کے مفادات کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، جس پر حکومت سے جواب طلب کیا جانا ضروری ہے۔


علاوہ ازیں، جموں و کشمیر اور لداخ کے ریاستی درجہ کو بحال کرنے کے مسئلے پر بھی ایوان میں بحث چھیڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ان خطوں کے عوام طویل عرصے سے اپنے جمہوری حقوق اور ریاستی شناخت کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اجلاس میں اندور اور بنگلورو میں آلودہ پانی کے باعث ہونے والی اموات کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا اور اسے انسانی جانوں سے جڑا سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ میں اٹھانے پر اتفاق ہوا۔

خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی کانگریس نے حکومت کو گھیرنے کی حکمتِ عملی بنائی ہے۔ پارٹی کے مطابق ہندوستان کی خارجہ پالیسی کمزور ہو رہی ہے، امریکہ کی جانب سے ٹیرف اور روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جو حکومت کی سفارتی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی طرح روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر کو بھی اہم اقتصادی مسئلہ قرار دیا گیا، جس سے مختلف شعبوں کو شدید مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔ کانگریس نے واضح کیا کہ یہ تمام موضوعات بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے میں اٹھائے جائیں گے، جبکہ دوسرے مرحلے کے لیے پارلیمانی اسٹریٹجی گروپ کی ایک اور میٹنگ بلائی جائے گی، جس میں آئندہ کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔