’نو سنکلپ چنتن شیویر سے نکلے گا ملک کو مضبوط بنانے کا راستہ‘، کانگریس لیڈران کا عزم

کانگریس کا چنتن شیویر ادے پور میں جاری ہے، پہلے دن کی کارروائیوں اور میٹنگوں میں تبادلہ خیال کے بعد کانگریس لیڈران نے کہا کہ یہ کیمپ عوامی بیداری لائے گا جس سے ملک کو مضبوط بنانے کا راستہ نکلے گا۔

نو سنکلپ چنتن شیویر سے خطاب کرتی ہوئیں کانگریس صدر سونیا گاندھی
نو سنکلپ چنتن شیویر سے خطاب کرتی ہوئیں کانگریس صدر سونیا گاندھی
user

سید خرم رضا

راجستھان کے ادے پور میں آج سے شروع ہوئے نوسنکلپ چنتن شیویر کا پہلا دن بہت گہما گہمی، رائے مشوروں اور جائزہ و خود احتسابی سے بھرپور رہا۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کے افتتاحی خطاب کے ساتھ شروع ہوئے اس کیمپ میں الگ الگ موضوعات پر تشکیل کمیٹیوں کی میٹنگیں شروع ہوئیں۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے اپنی افتتاحی تقریر میں ملک کی موجودہ سیاسی، معاشی، سماجی حالات پر فکر ظاہر کرتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت اور بی جے پی کو پرزور طریقے سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اس تاریخی شہر کی ایک بہت ہی اعلیٰ وراثت ہے۔ یہاں جو ہمارا چنتن شیویر ہو رہا ہے، اس کا موضوع ہے ’نو سنکلپ‘ (نئے عزائم)۔ ادے پور ہمیں ان چیلنجز سے نمٹنے اور ان پر غور و خوض کر پالیسی بنانے کا موقع دے رہا ہے جو بی جے پی کی پالیسیوں اور آر ایس ایس سے جڑے اداروں کی سرگرمیوں کے سبب آج ملک کے سامنے ہیں۔‘‘

کانگریس صدر نے افتتاحی تقریر کے دوران کہا کہ ’’اب تو یہ پوری طرح سے واضح ہو چکا ہے کہ وزیر اعظم مودی اور ان کے معاونین جو بار بار دہراتے ہیں ’میکسیمم گورننس اینڈ منیمم گورنمنٹ‘ اس سے ان کا اصلی چہرہ سامنے آ گیا ہے۔ اس کا اصل معنی ہے ملک کو لگاتار پولرائزیشن میں رکھنا اور لوگوں کو فکر، خوف اور عدم تحفظ کے ماحول میں جینے کو مجبور کرنا۔ اس کا اصل معنی ہے اقلیت، جو ہماری جمہوریت کے برابر کے شہری ہیں، جو ہمارے سماج کا اٹوٹ حصہ ہیں، انھیں قصداً نشانہ بنانا اور ان پر ظالمانہ انداز میں حملہ کرنا۔ اس کا اصل معنی ہے سماج میں صدیوں سے چلے آ رہے تنوع کا غلط استعمال کر کے اسے تقسیم کرنا اور سماج میں بڑے احتیاط سے پرورش کردہ اجتماعیت میں اتحاد کے اصول کو تباہ کرنا۔ اس کا اصل معنی ہے تمام جمہوری اداروں کی آزادی اور غیر جانبداری کے ساتھ کھلواڑ کرنا۔‘‘


سونیا گاندھی کی افتتاحی تقریر کے بعد کانگریس کے ذریعہ سیاسی، تنظیمی، معاشی، نوجوان، زراعت اور سماجی انصاف پر تشکیل پینلوں کی میٹنگوں کا دور شروع ہوا۔ تنظیم کے لیے تشکیل پینل کے کنوینر مکل واسنک ہیں۔ اس پینل میں اجئے ماکن، طارق انور، رندیپ سنگھ سرجے والا، آر چنیتھالہ، ادھیر رنجن چودھری، نیٹّا ڈیسوزا اور میناکشی نٹراجن شامل ہیں۔ اس پینل کی میٹنگ میں پینل اراکین کے علاوہ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے بھی حصہ لیا۔ میٹنگ کے دوران تنظیم سے جڑے اہم ایشوز پر کھل کر اور سنجیدگی کے ساتھ تبادلہ خیال ہوا۔ سبھی نے اپنے خیالات رکھے۔ میٹنگ میں زیادہ توجہ اسی پر مرکوز کی گئی کہ کس طرح مشترکہ کوششوں سے کانگریس کو پھر سے مضبوطی کی طرف لے کر جایا جائے۔

واضح رہے کہ کیمپ کے دوران سبھی 6 پینل کے لیے الگ الگ 6 پنڈال بنائے گئے ہیں اور ان پینلوں کی میٹنگ میں کمیٹی کے اراکین کو ہی جانے کی اجازت ہے۔ ان پینلوں کی میٹنگ کے دوران کسی بھی رکن کو موبائل فون وغیرہ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ سیاسی مسئلوں کے پینل کی میٹنگ بھی شروع ہوئی جس کے کنوینر راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے ہیں۔ ان کے علاوہ اس پینل میں غلام نبی آزاد، اشوک چوہان، این اتم کمار ریڈی، ششی تھرور، گورو گگوئی، پون کھیڑا، راگنی نایک اور ایس ایس اولاکا شامل ہیں۔ اس پینل کی میٹنگ میں بھی کانگریس صدر سونیا گاندھی نے شرکت کی اور اراکین کی بات کو سنجیدگی سے سنا۔ اس میٹنگ میں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی بھی شامل رہیں۔


سابق وزیر مالیات پی چدمبرم کی قیادت والے معاشی امور کے پینل نے ملک کے موجودہ معاشی حالات، مہنگائی اور زوال پذیر معیشت پر سنجیدہ گفتگو کی۔ اس پینل میں پی چدمبرم کے علاوہ سدارمیا، آنند شرما، سچن پائلٹ، منیش تیواری، راجیو گوڑا، پرینیتی شندے، گورو ولبھ اور سپریا شرینیت شامل ہیں۔ میٹنگ کے دوران بے روزگاری، روپے کی لگاتار گرتی قیمت، ریکارڈ توڑ مہنگائی پر سنجیدہ گفتگو ہوئی۔

کسانوں کے مسائل اور ملک کے زرعی شعبہ کے مسائل کے حل کے لیے بنی کمیٹی کی میٹنگ پینل کے کنوینر بھوپندر سنگھ ہڈا کی صدارت میں شروع ہوئی۔ میٹنگ کے دوران ملک کے زرعی نظام کے مسائل کو دور کر، کسان ساتھیوں کو ایک بہتر زندگی دینے کے لیے تبادلہ خیال ہوا۔ اس میٹنگ میں اس بات پر رائے بنی کہ اپنے وقار، عزت اور حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے کسانوں کو ایک خوشحال زندگی دینا کانگریس کی ترجیح رہی ہے، اور اسے آگے بھی جاری رکھا جائے گا۔ اس پینل میں بھوپندر ہڈا کے علاوہ شکتی سنگھ گوہل، ٹی ایس سنگھدیو، نانا پٹولے، پرتاپ سنگھ باجوا، ارون یادو، اکھلیش پرساد سنگھ، گیتا کورا اور اجئے کمار للو شامل ہیں۔


نوجوانوں کے امور کو لے کر بنائے گئے پینل کی میٹنگ میں کمیٹی اراکین اور دیگر شرکا نے اپنے خیالات رکھے اور کہا کہ نوجوان ہی ملک کا مستقبل طے کرتے ہیں۔ نوجوانوں کے خوابوں کو پورا کیے بغیر ترقی کی راہ پر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ انہی نوجوانوں کے خوابوں کو پورا کر ملک کو پھر سے ہر شعبہ میں آگے لانے پر غور و خوض کر ایک خاکہ بنایا جائے گا۔ اس پینل کے کنوینر پنجاب کے نوجوان لیڈر امرندر سنگھ وارنگ ہیں جب کہ کمیٹی میں بی وی شرینواس، نیرج کندن، کرشنا بی گورا، کرشنا الاورو، الکا لامبا، روزی ایم جان، ابھشیک دَت، کرشما ٹھاکر اور انکیتا دتہ شامل ہیں۔

نوسنکلپ چنتن شیویر کے دوران سبھی 6 پینلوں کی میٹنگ میں مثبت انداز میں تبادلہ خیال ہوا۔ ان پینلوں کی میٹنگ کے دوران کمیٹی اراکین کے علاوہ دیگر لیڈروں اور کارکنان کو بھی شامل کیا گیا۔ پہلے دن کی کارروائی کے بعد کانگریس لیڈروں نے کہا کہ نوسنکلپ چنتن شیویر ایک عوامی بیداری ہے۔ ہم کانگریس کے اصولوں کو عوام کے درمیان لے کر جائیں گے اور تنظیم کو پھر سے ایک مضبوط حالت میں لے کر آئیں گے۔ کانگریس مضبوط ہوگی تو ملک بھی مضبوط ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔