رسوئی گیس کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف کانگریس نے مودی حکومت پر کیا حملہ

پرینکا گاندھی نے پی ایم مودی سے سوال پوچھا ہے کہ ’’گزشتہ 7 سالوں میں گیس سلنڈر کی قیمت دوگنی کیوں کی گئی؟ بھیانک معاشی بحران والے سال میں گیس سلنڈر پر 240 روپے کیوں بڑھا دیے گئے؟‘‘

پرینکا گاندھی، تصویر @INCIndia
پرینکا گاندھی، تصویر @INCIndia
user

تنویر

رسوئی گیس کی قیمتوں میں لگاتار ہو رہے اضافہ کے خلاف ایک بار پھر کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اور رندیپ سنگھ سرجے والا دونوں نے ہی رسوئی گیس کی بڑھتی قیمتوں کو غریبوں کے لیے ظلم سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ بڑی تعداد میں سلنڈر کباڑ میں چلے گئے ہیں اور غریب فیملی ایک بار پھر چولہے کی طرف رخ کرنے کے لیے مجبور ہوئی ہے۔

پرینکا گاندھی نے اس سلسلے میں ایک فیس بک پوسٹ کیا ہے جس میں پی ایم مودی سے سوال پوچھا ہے کہ ’’گزشتہ 7 سالوں میں گیس سلنڈر کی قیمت دوگنی کیوں کی گئی؟ بھیانک معاشی بحران والے سال میں گیس سلنڈر پر 240 روپے کیوں بڑھا دیے گئے؟‘‘ ساتھ ہی انھوں نے لکھا ہے کہ ’’گیس سلنڈر کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے تقریباً 90 فیصد سلنڈر کباڑ میں پڑے ہیں اور لوگ چولہے پر کھانا بنانے کو مجبور ہیں۔ اس ظالم حکومت نے غریبوں کو سلنڈر پر ملنے والی سبسیڈی بھی ختم کر دی۔ اب جملہ نہیں، غریب کے سلنڈر میں گیس چاہیے۔ مہنگائی کم کیجیے۔‘‘


دوسری طرف رندیپ سنگھ سرجے والا نے ایک بیان جاری کر کہا ہے کہ ’’ستم ظریفی دیکھیے، لوگوں کے گھروں میں مہنگائی کا اندھیرا پھیلانے والے لوگ اپنے منصوبوں کا نام اُجولا رکھ رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’آج جب مودی جی اتر پردیش کے مہوبا میں اُجولا-2 کی شروعات کر رہے ہیں، تب ملک کو جاننا چاہیے کہ پہلے اُجولا کے نام پر کیا اندھیرا غریبوں کے گھروں میں پھیلایا گیا ہے۔‘‘

رسوئی گیس کی قیمتوں سے متعلق تفصیل بیان کرتے ہوئے رندیپ سرجے والا نے کہا کہ ’’آج کھانا بنانے کی گیس کی قیمت مہوبا میں 888 روپے فی سلنڈر ہے، جو کانگریس کی حکومت میں 400 روپے کا ہوا کرتا تھا۔ نام اس کا اُجولا نہیں تھا، مگر لوگوں کے گھروں میں گیس کی سستی قیمتوں کی روشنی جگمگا رہی تھی۔ آج تقریباً 8 کروڑ اُجولا گیس لینے والی فیملیوں میں سے 3 کروڑ فیملیوں نے گیس کا سلنڈر بھرایا ہی نہیں ہے کیونکہ وہ اتنی زیادہ قیمت ادا نہیں کر سکتے، اور بیشتر لوگ پھر سے لکڑی کے چولہے پر کھانا بنانے کو مجبور ہیں۔ لکڑی کے چولہوں پر اس لیے کہ کیروسین کی پوری سبسیڈی بھی مودی جی نے یکم اپریل 2021 سے ختم کر دی اور اس کی قیمت دوگنی سے زیادہ بڑھا دی۔‘‘ طنزیہ انداز میں سرجے والا آگے کہتے ہیں کہ ’’ہم نے سنا تھا کہ جنگل کی آگ پر آگ سے قابو پایا جاتا ہے۔ آج مودی جی پٹرول، ڈیزل، کھانا بنانے کی گیس، کھانے کا تیل، سب کی قیمتوں میں آگ لگا کر غریبوں کے پیٹ کی آگ بجھانے کا ڈرامہ کر رہے ہیں۔ خیر، صحیح معنوں میں ملک کی جمہوریت کو جنگل راج میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔