رافیل ڈیل: فرانس میں تحقیقات شروع ہوتے ہی کانگریس مودی حکومت پر حملہ آور، جے پی سی جانچ کا مطالبہ

رندیپ سرجے والا نے کہا کہ ’’مرکزی حکومت جے پی سی جانچ کیوں نہیں کرواتی۔ اگر دال میں کچھ کالا نہیں ہے تو پھر جانچ سے حکومت کو ڈر کس بات کا ہے۔ اگر دال میں کچھ کالا ہے تو الگ بات ہے۔‘‘

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

رافیل جنگی جہاز معاملہ میں کانگریس ایک بار پھر مودی حکومت پر حملہ آور نظر آ رہی ہے اور فرانس کے ساتھ رافیل معاہدہ میں مبینہ بدعنوانی کو لے کر جے پی سی جانچ کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ دراصل رافیل جنگی جہاز سودے کی جانچ کے لیے فرانس میں ایک جج کی تقرری کی گئی ہے، اس کے بعد سے ہی کانگریس نے مرکز کو گھیرنا شروع کر دیا ہے۔ فرانس کی پبلک پرازیکیوشن سروس (پی این ایف) کے مطابق مجسٹریٹ نے جانچ شروع کر دی ہے اور رافیل سودے میں بدعنوانی کے ساتھ ساتھ جانبداری کے الزامات کی بھی جانچ کی جائے گی۔

فرانس میں رافیل سودے کی تحقیقات شروع ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد کانگریس نے پریس کانفرنس کر کے مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے رافیل جنگی جہاز معاہدہ کی جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس جنرل سکریٹری اور ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ پہلی نظر میں بدعنوانی کا الزام ہے اور سچائی سب کے سامنے آنی چاہیے۔


میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے رندیپ سرجے والا نے کہا کہ ’’فرانس میں پہلی نظر میں بدعنوانی کا الزام سامنے آ گیا ہے تو مرکزی حکومت جے پی سی جانچ کیوں نہیں کرواتی۔ اگر دال میں کچھ کالا نہیں ہے تو پھر جانچ سے حکومت کو ڈر کس بات کا ہے۔ اگر دال میں کچھ کالا ہے تو الگ بات ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ ملک کی سیکورٹی سے جڑا معاملہ ہے، اس لیے جے پی سی جانچ ہونی چاہیے۔ شفافیت، جوابدہی، بدعنوانی سے پاک نظام دینا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔‘‘

واضح رہے کہ فرانس اور ہندوستان کے درمیان رافیل طیارہ کا سودا ہوا تھا۔ تقریباً 7.8 ارب یورو کے سودے میں ہندوستان کو 36 فائٹر جیٹس ملیں گے۔ یہ سودا دیسالٹ ایویشن اور حکومت ہند کے درمیان ہوا تھا۔ سودے کو لے کر کانگریس بدعنوانی کا الزام لگاتی رہی ہے۔ اس سودے کو لے کر فرانس کے ایک این جی او شیرپا نے 2018 میں جانچ کے لیے شکایت درج کرائی تھی اور اس وقت پی این ایف نے جانچ کے مطالبہ کو خارج کر دیا تھا۔


بہر حال، آج پریس کانفرنس کے دوران رندیپ سرجے والا نے کہا کہ اگر فرانس کے سابق صدر فرانسوا اولاند اور موجودہ صدر امینوئل میکرون کے کردار کی جانچ کی جا رہی ہے تو ہندوستان کے سابق وزیر دفاع اور ایک ہندوستانی کمپنی کی بھی جانچ کیوں نہیں ی جا سکتی۔ ایسے میں اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ایسے میں وزیر اعظم مودی جی سامنے آ کر رافیل گھوٹالے کی جے پی سی جانچ کرائیں گے؟

کانگریس ترجمان نے کہا کہ فرانس میں میڈیا پارٹ نے کاغذات سمیت دیسالٹ اور ایک ہندوستانی کمپنی کے درمیان سودے کا انکشاف کیا ہے جس نے ایک مشترکہ ادارہ تشکیل دی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ سابق صدر فرانسوا اولاند کے ذریعہ دیے گئے بیان کی تصدیق کرتا ہے، جنھوں نے کہا تھا کہ ایک ہندوستانی کمپنی کو دیسالٹ کے صنعتی شراکت دار کی شکل میں مقرر کرنے کا فیصلہ حکومت ہند کا تھا، جس کا مطلب ہے مودی حکومت۔ اور فرانس کے پاس اس معاملے میں کوئی متبادل نہیں تھا۔‘‘


کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’25 مارچ 2015 کو دیسالٹ کے سی ای او بنگلور آتے ہیں اور ہندوستانی فضائیہ اور ایچ اے ایل کے سربراہ کی موجودگی میں دیسالٹ اور ایچ اے ایل کے سمجھوتے کی تصدیق کرتے ہیں، لیکن 24 گھنٹے میں ہی دیسالٹ ایویشن ریلائنس سے اپنا نیا ایگریمنٹ سائن کر لیتی ہے۔ فطری طور پر اس معاہدے کے بعد حکومت ہند کی کمپنی ’ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ‘ (ایچ اے ایل) جو جہاز بناتی آئی ہے، اسے رافیل سودے سے باہر کر دیا گیا۔

رندیپ سرجے والا نے کہا کہ اس سودے کے لیے جو ڈی آر ایل اے کمپنی بنائی گئی، اس میں ریلائنس 51 فیصد کا مالک ہے اور دیسالٹ 49 فیصد کا مالک ہے۔ اس کمپنی میں دونوں شراکت داروں ’ریلائنس اور دیسالٹ‘ کے ذریعہ 169 ملین یورو کی سرمایہ کاری زیادہ سے زیادہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دیسالٹ، جو 49 فیصد شراکت دار ہے، وہ 169 ملین یورو میں سے 159 ملین یورو لانے کے لیے مجبور ہوگی اور 51 فیصد کی مالک ریلائنس صرف 10 مین یورو لائے گی۔ دیسالٹ اور ریلائنس کے درمیان کلاؤز 4.4.1 جو اس معاہدے کا حصہ ہے، اس میں جہاز بنانے کی تکنیک اور ساری مہارت دیسالٹ ایویشن لائے گی تو ریلائنس کیا لائے گی؟


پریس کانفرنس میں سرجے والا نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 126 جنگی جہازوں کی جگہ 36 رافیل جیٹ خرنے کے لیے 7.8 ارب یورو کے سودے پر دستخط کیا۔ انھوں نے بتایا کہ فرانسیسی حکومت نے مودی حکومت کے ساتھ ہوئے اس معاہدہ میں سے بدعنوان مخالف ڈویژن کو ہٹا دیا۔ انھوں نے کہا کہ جو تازہ انکشافات اب فرانس میں ہوئے ہیں، انھوں نے ایک بار پھر شک کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔ پہلی نظر میں رافیل ایئر کرافٹ سودے میں بدعنوانی ثابت ہے، اور سب کے سامنے ہے، جو کانگریس اور راہل گاندھی ہمیشہ سے کہتے رہے ہیں وہ آج ثابت ہو گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 03 Jul 2021, 4:11 PM