راجستھان میں زچہ خواتین کی حالت بگڑنے کے مسلسل واقعات، کانگریس نے حکومت پر لاپروائی کا الزام لگایا
کوٹا، بیکانیر اور اب جودھپور میں زچہ خواتین کی اموات اور طبیعت بگڑنے کے واقعات پر کانگریس نے راجستھان حکومت کو نشانہ بنایا ہے اور صحت کے نظام میں سنگین لاپروائی کا الزام عائد کیا

جودھپور: راجستھان میں سرکاری اسپتالوں میں زچہ خواتین کی اموات اور ان کی صحت بگڑنے کے مسلسل واقعات پر سیاسی ہنگامہ تیز ہو گیا ہے۔ کوٹا میں 5 اور بیکانیر میں دو زچہ خواتین کی موت کے بعد اب جودھپور کے پاوٹا ضلع اسپتال میں سیزیرین زچگی کے بعد 8 خواتین کی طبیعت بگڑنے کے معاملے نے ریاست کے طبی نظام پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کانگریس نے ان واقعات کو حکومت کی لاپروائی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
جودھپور کے پاوٹا ضلع اسپتال میں سیزیرین زچگی کے بعد 8 خواتین کی طبیعت خراب ہو گئی، جن میں دو خواتین کو متھرا داس ماتھر اسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخل کیا گیا۔ باقی 6 خواتین زیر علاج ہیں۔ اسپتال انتظامیہ نے واقعے کی جانچ شروع کرتے ہوئے آپریشن تھیٹر کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ نمونوں کو جانچ کے لیے تجربہ گاہوں میں بھیجا گیا ہے اور رپورٹ آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
تازہ واقعے کے بعد کانگریس نے راجستھان میں صحت خدمات کی صورت حال کو لے کر حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کہا کہ کوٹا اور بیکانیر کے بعد جودھپور میں زچہ خواتین کی حالت بگڑنا انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق خون میں انفیکشن اور گردوں کے متاثر ہونے جیسے معاملات طبی نظام میں سنگین خامیوں اور لاپروائی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ اصل صورت حال کو عوام سے پوشیدہ رکھنے میں مصروف رہی۔
کانگریس کے رہنما سچن پائلٹ نے کہا کہ ریاست میں طبی اور صحت خدمات مسلسل خراب ہو رہی ہیں اور حکومت ان مسائل سے نمٹنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوٹا اور بیکانیر کے واقعات کے باوجود کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے ایک اور سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات، ذمہ دار افراد کے تعین اور متاثرہ خاندانوں کو مناسب مالی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل کاسواں نے کہا کہ ایک طرف بہتر حکمرانی اور ترقی یافتہ راجستھان کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف زچہ خواتین کو محفوظ طبی سہولتیں فراہم کرنے میں حکومت ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
اس سے قبل وزیر صحت گجندر سنگھ کھینوسر کے ایک بیان پر بھی تنازعہ پیدا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ نوجوان خواتین درد زہ برداشت نہیں کرنا چاہتیں، جس کی وجہ سے سیزیرین زچگی کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے اس بیان پر کانگریس نے سخت اعتراض کرتے ہوئے حکومت پر اپنی ذمہ داریوں سے بچنے اور لاپروائی چھپانے کا الزام لگایا تھا۔
کانگریس کے سینئر رہنما پرتاپ سنگھ کھاچریاواس نے کہا کہ کوٹا، بیکانیر اور جودھپور کے واقعات کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق بار بار پیش آنے والے یہ معاملات صحت نظام میں گہری خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور حکومت کو بہانے تراشنے کے بجائے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کرنے چاہئیں۔ جودھپور کے تازہ واقعے کے بعد راجستھان کے سرکاری اسپتالوں میں صفائی، نگرانی اور طبی سہولتوں کے معیار پر ایک بار پھر بحث تیز ہو گئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
