راجستھان کے اسپتال میں زچہ کی زندگی داؤ پر! سی-سیکشن کے بعد 6 خواتین کی کڈنی خراب، حالت نازک

ایکیوٹ کڈنی انجری کی شکایت کے بعد اسپتال میں افراتفری مچ گئی جس کے بعد متاثرہ خواتین کو سنگین حالت میں آئی سی یو میں منتقل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کی خصوصی نگہداشت میں ان کا ڈائلیسس کیا جا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

راجستھان کے کوٹا ڈویزن کے بعد اب بیکانیر کے سب سے بڑے پی بی ایم اسپتال سے مریض کی سیکورٹی کے حوالے سے ایک بے حد حیران کن اور خوفزدہ کرنے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اسپتال کے  زچہ وارڈ (خواتین وارڈ) میں سیزیرین ڈیلیوری (سی-سیکشن) کے بعد 6 زچہ کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور ان کی کڈنی نے کام کرنا بند کر دیا۔ ایکیوٹ کڈنی انجری کی شکایت کے بعد اسپتال انتظامیہ میں افراتفری مچ گئی جس کے بعد آناً فاناً سبھی 6 متاثرہ خواتین کو سنگین حالت میں آئی سی یو میں منتقل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کی خصوصی نگہداشت میں ان کا ڈائلیسس کیا جا رہا ہے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق اس سنگین طبی پیچیدگی کا شکار ہونے والی تمام خواتین کی عمر 20 سے 27 سال کے درمیان ہے۔ ان میں سے پھلودی کی رہنے والی 20 سالہ پریتی کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ اسے کڈنی میں شدید انفیکشن کی وجہ سے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔ ایک ساتھ 6 خواتین کی کڈنی متاثر ہونے کی اس واردات نے زچگی کے لیے آئے خاندانوں کو گہری تشویش اور خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔


اس سنگین معاملے کے بارے میں ایس پی میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سریندر ورما نے سرکاری بیان جاری کر کے بتایا کہ حاملہ خواتین میں اکیو کڈنی انجری (گردے کی شدید چوٹ) کی کئی تکنیکی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ حالانکہ انہوں نے آپریشم تھیٹر یا وارڈ میں کسی طرح کے مہلک بیکٹیریل انفیکشن کے امکان سے انکار نہیں کیا ہے۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسپتال انتظامیہ اب وارڈ میں جدید ترین انفیکشن ڈٹیکٹر مشین لگانے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جو محض 90 سیکنڈ کے اندر کسی بھی قسم کے انفیکشن کی شناخت کر نے کے قابل ہوگی۔ کوٹا کے بعد بیکانیر کے بڑے سرکاری اسپتال میں سامنے آئے اس معاملے نے ریاست کی میڈیکل خدمات، آپریشن تھیٹروں کے سینیٹائزیشن اور زچگی سیکورٹی کے معیار پر سنگین سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ فی الحال اس پورے معاملے کی وجوہات کا پتہ لگانے کےلئے انتظامی اور طبی ٹیموں کے ذریعہ اعلیٰ سطحی جانچ کی جارہی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔