دہلی میں بڑھتی ہوئی جگر کی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے 'دہلی ماڈل' کا افتتاح
ماہرین کے مطابق فیٹی لیور کی بیماری اس وقت تقریباً ہر تین میں سے ایک بالغ فرد کو متاثر کر رہی ہے، جو آگے چل کر سنگین امراض کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

دہلی کے وزیرِ صحت پنکج کمار سنگھ نے بدھ کے روز دارالحکومت میں بڑھتی ہوئی جگر کی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے ''دہلی ماڈل'' کا افتتاح کیا۔ اس کا اعلان انسٹی ٹیوٹ آف لیور اینڈ بلیئری سائنسز (آئی ایل بی ایس) کے 16ویں یومِ تاسیس کی تقریب کے موقع پر کیا گیا۔
دہلی کےوزیرِ صحت پنکج سنگھ نے اس موقع پر آئی ایل بی ایس کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے گزشتہ 16 برسوں میں علاج، تحقیق اور عوامی بیداری کے میدان میں نئے معیار قائم کیے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ دہلی حکومت آئی ایل بی ایس کو ہر ضروری تعاون فراہم کرے گی۔ وزیرموصوف نے یہ بھی کہا کہ ڈائریکٹر ڈاکٹر شیو کمار سرین کی جانب سے پیش کی گئی سالانہ رپورٹ میں درج تمام ضروریات کو حکومت پورا کرے گی۔
پنکج سنگھ نے کہا "آئی ایل بی ایس نہ صرف دہلی بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مثالی ادارہ بن چکا ہے۔ یہاں کے ڈاکٹروں، نرسوں، سائنس دانوں اور عملے کی وابستگی قابلِ تحسین ہے۔" اس موقع پر ڈاکٹر سرین نے آئی ایل بی ایس کی سال 2025 کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ادارے میں 1.6 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا، 11,000 سے زیادہ ایمرجنسی کیسز سامنے آئے اور 162 جگر کے ٹرانسپلانٹ کامیابی کے ساتھ انجام دیے گئے۔
صحت مند جگر کا ''دہلی ماڈل'' ایک جامع عوامی صحت کا اقدام ہے، جس کا مقصد فیٹی لیور جیسی بیماریوں کی بروقت تشخیص، روک تھام اور درست علاج کو یقینی بنانا ہے۔ ماہرین کے مطابق فیٹی لیور کی بیماری اس وقت تقریباً ہر تین میں سے ایک بالغ فرد کو متاثر کر رہی ہے، جو آگے چل کر سنگین امراض کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
اس مقصد کے لیے لوگوں میں جگر کی صحت کے حوالے سے آگاہی بڑھائی جائے گی، محلہ کلینکس اور سرکاری اسپتالوں میں جانچ کی سہولت فراہم کی جائے گی، ضرورت پڑنے پر مریضوں کو بڑے اسپتالوں سے منسلک کیا جائے گا، جبکہ طرزِ زندگی میں بہتری، غذائی مشورے اور باقاعدہ فالو اَپ پر خصوصی زور دیا جائے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔