روپیہ بنا ایشیا میں سب سے خراب کارکردگی والی کرنسی، مودی ملک کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے: کانگریس
روپیہ کی خراب کارکردگی سے متعلق رپورٹ پر کانگریس نے اظہارِ فکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’روپے میں ایسی ریکارڈ گراوٹ نہ صرف ہماری معیشت بلکہ ہندوستان کی ساکھ پر بھی سوال کھڑے کر رہی ہے۔‘‘

نئی دہلی: کانگریس پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی غلط اور ناقص اقتصادی پالیسیوں نے ملک کی معیشت کو سنگین نقصان پہنچایا ہے، جس کا واضح ثبوت 2025 میں ہندوستانی روپیہ کا ایشیا کی سب سے کمزور کرنسی بن کر ابھرنا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ڈالر کے مقابلے روپے میں غیر معمولی گراوٹ نہ صرف معاشی کمزوری کی علامت ہے بلکہ اس سے ملک کے وقار پر بھی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔
کانگریس کے مطابق 2025 کے دوران ڈالر کے مقابلے ہندوستانی روپیہ تقریباً 6.03 فیصد کمزور ہوا، جو ایشیائی خطے کی بڑی کرنسیوں میں سب سے زیادہ گراوٹ ہے۔ پارٹی نے نشاندہی کی کہ اسی مدت میں چین کا یوآن نسبتاً بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک اپنی معیشت کو سنبھالنے میں ہندوستان سے آگے نکل گئے ہیں۔
کانگریس نے بدھ کے روز اپنے سرکاری سوشل میڈیا پیج پر جاری بیان میں کہا کہ روپے کی اس گراوٹ کا براہ راست اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔ پارٹی کے مطابق کمزور روپیہ درآمدات کو مہنگا بنا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں تیل، الیکٹرانکس اور سونے جیسی بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مہنگائی بڑھتی ہے، روزمرہ ضروریات، ایندھن اور گھریلو اخراجات پر بوجھ بڑھتا ہے اور متوسط و کم آمدنی والے طبقے کی قوت خرید متاثر ہوتی ہے۔
پارٹی نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی بلند تجارتی محصولات، برآمد کنندگان کے لیے غیر موافق ماحول اور غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے بڑے پیمانے پر اخراج نے روپے کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ کانگریس کے مطابق حکومت نے بروقت اصلاحی اقدامات کرنے کے بجائے دعوؤں اور تشہیر پر زیادہ توجہ دی، جس کا خمیازہ اب پوری معیشت اور عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
کانگریس نے وزیر اعظم کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی ملک کی معیشت کو سنبھالنے میں ناکام رہے ہیں اور روپے کی ریکارڈ گراوٹ اس ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنی اقتصادی پالیسیوں پر ازسرنو غور کرے اور ایسے ٹھوس اقدامات کرے جن سے روپیہ مستحکم ہو اور عام شہری کو بڑھتی مہنگائی سے راحت مل سکے۔