راجستھان میں زچگی کے بعد خواتین کی اموات کے معاملے، اشوک گہلوت کا وزیر اعلیٰ کو خط، 8 مطالبات پیش
شوک گہلوت نے راجستھان میں زچگی کے بعد خواتین کی اموات اور گردوں کے متاثر ہونے پر وزیر اعلی کو خط لکھ کر متاثرہ خاندانوں کی مالی مدد، جانچ رپورٹ عام کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے

جے پور: راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کوٹا کے نیو میڈیکل کالج اسپتال اور بیکانیر کے پی بی ایم اسپتال میں زچگی کے بعد خواتین کی اموات اور گردوں کے متاثر ہونے کے واقعات پر وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما کو خط لکھ کر 8 مطالبات پیش کیے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے کو سرکاری صحت کے نظام کی ادارہ جاتی ناکامی قرار دیتے ہوئے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے۔
اشوک گہلوت نے جمعہ کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ جن خواتین کی موت ہوئی ہے، ان کے اہل خانہ اور زیر علاج مریضوں کو وزیر اعلیٰ امدادی فنڈ سے فوری مالی امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے ذمہ دار افسران اور ڈاکٹروں کے خلاف مقدمات درج کرنے اور انہیں معطل کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ کے مطابق 4 مئی سے اب تک تقریباً ڈیڑھ ماہ کے دوران کوٹا کے سرکاری اسپتال میں 5 زچہ خواتین کی موت ہو چکی ہے جبکہ 5 دیگر خواتین اب بھی زیر علاج ہیں اور ان کے گردے متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث انہیں ہفتے میں ایک سے تین مرتبہ ڈائلیسس کرانا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح بیکانیر کے پی بی ایم اسپتال میں بھی زچگی کے بعد پانچ خواتین کے گردے متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک خاتون، جو گزشتہ بیس دن سے مصنوعی تنفس کے نظام پر زیر علاج تھیں، جمعہ کو انتقال کر گئیں۔
اشوک گہلوت نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی جانچ رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے تاکہ اموات اور گردوں کے متاثر ہونے کی اصل وجوہات واضح ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی سائنس تجربہ گاہ کی رپورٹ آنے میں تاخیر ہو رہی ہے، اس لیے نمونوں کو ریاست سے باہر کی تجربہ گاہوں میں بھیج کر جلد جانچ کرائی جائے۔
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جن خواتین کے گردے مستقل طور پر متاثر ہو گئے ہیں، ان کے گردے کی پیوند کاری اور زندگی بھر کے علاج کا پورا خرچ ریاستی حکومت برداشت کرے۔ ضرورت پڑنے پر مریضوں کو نئی دہلی یا ممبئی کے بڑے طبی اداروں میں بھیجنے کا انتظام کیا جائے۔
اشوک گہلوت نے ریاست کے تمام سرکاری اسپتالوں میں آپریشن تھیٹروں کے انفیکشن کنٹرول نظام کا اعلیٰ سطحی جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو ایک معمولی حادثہ سمجھ کر نظر انداز کرنے کی کوشش قابل قبول نہیں ہوگی اور حقیقت سامنے لانے کے لیے مؤثر کارروائی ضروری ہے۔
