کوئلہ بحران کا حل نکالنے کی جگہ ریاستوں کو قصوروار ٹھہرانے کی ہو رہی کوشش!

مرکز نے ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ اضافی بجلی کے بارے میں حکومت ہند کو مطلع کریں تاکہ اس بجلی کو دیگر ضرورت مند ریاستوں کو الاٹ کیا جا سکے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان میں کوئلہ بحران کے اندیشوں کا اعتراف کرنے اور اس سے پیدا ہونے والے بجلی بحران کا حل نکالنے کی جگہ مرکز ہر بار کی طرح قصور ریاستی حکومتوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مرکز نے ریاستوں کو غیر الاٹ بجلی نہیں فروخت کرنے کی تنبیہ دیتے ہوئے واپس لے لینے کی دھمکی دی ہے۔ مرکز نے متنبہ کیا ہے کہ اگر بجلی کا استعمال صارفین کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے نہیں کیا جا رہا ہے، بلکہ فائدے کے لیے اسے زیادہ قیمتوں پر بجلی ایکسچینج کو فروخت کیا جا رہا ہے، تو ایسی ریاستوں کو الاٹ نہیں کی گئی بجلی واپس لے لی جائے گی۔

مرکز نے یہ ہدایت غیر الاٹ (الاٹ نہیں کی گئی) بجلی کو لے کر جاری کی ہے۔ مرکز کا کہنا ہے کہ بجلی بحران کے درمیان بجلی کے اس حصے کے استعمال کو روکنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ مرکزی وزارت برائے توانائی کی یہ ہدایت کئی ریاستوں کے ذریعہ طلب میں اچانک اضافہ کے سبب بجلی کی کمی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد جاری ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی فائدہ کو زیادہ کرنے کے لیے ایکسچینجوں پر دستیاب بجلی کا ایک حصہ فروخت کرنے سے بجلی کی ایک یونٹ کے لیے قیمتیں 15 روپے تک پہنچ گئی ہیں۔


تمل ناڈو، پنجاب، دہلی، راجستھان، آسام، مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں نے کوئلہ پر مبنی پاور پلانٹس میں ایندھن کی کمی کے مدنظر اپنے یہاں بجلی کی حالت میں سنگین بحران کی جانکاری دی ہے، جب کہ وبا کے بعد بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اب ملک بھر میں معاشی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔

وزارت مالیات کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے دھیان میں یہ بات آئی ہے کہ کچھ ریاستیں اپنے صارفین کو بجلی کی فراہمی نہیں کر رہے ہیں اور بجلی کی تخفیف (لوڈ شیڈنگ) کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی وہ بجلی ایکسچینج میں بھی اونچی قیمتوں پر بجلی فروخت کر رہے ہیں۔ غیر الاٹ بجلی پر تازہ کارروائی بجلی کے اس حصے کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ہے۔


مرکز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس لیے ریاستوں سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ اپنے صارفین کو بجلی کی فراہمی کے لیے الاٹ نہیں کی گئی بجلی کا استعمال کریں۔ اضافی بجلی کے معاملے میں ریاستوں سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ حکومت ہند کو مطلع کریں تاکہ اس بجلی کو دیگر ضرورت مند ریاستوں کو ایک بار پھر الاٹ کیا جا سکے۔ مرکز نے کہا ہے کہ اگر یہ پایا جاتا ہے کہ کوئی ریاست اپنے صارفین کی ضرورت کو پورا نہیں کر رہی ہے اور بجلی ایکسچینجوں میں زیادہ قیمت پر بجلی فروخت ہو رہی ہے تو ایسی ریاستوں کے صارفین کو الاٹ نہیں کی گئی بجلی واپس لے لی جائے گی اور دیگر ضرورت مند ریاستوں کو الاٹ کر دی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔