بہار میں سرکاری تقریب کے بینر سے وزیر اعلیٰ کی تصویر غائب، چہ می گوئیاں شروع

سرکاری تقریب میں بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تارکشور پرساد اور وزیر صحت منگل پانڈے موجود رہے، لیکن اسٹیج پر جو پوسٹر لگا تھا، اس میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی نہ تصویر تھی اور نہ ہی ان کے نام کا ذکر تھا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

بہار کے کٹیہار میں ایک سرکاری تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی تصویر کے ندارد رہنے پر ریاست کی سیاست گرم ہو گئی ہے۔ اپوزیشن اسے بی جے پی کا ’کھیل‘ بتا کر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کھیلا ہوبے‘۔ دراصل کٹیہار میں اتوار کو ایک تقریب میں انسٹی ٹیوشنل ڈلیوری کو فروغ دینے کے مقصد سے 100 بستر کے ماں-بچہ اسپتال، 100 بیڈ کے صدر اسپتال (کٹیہار) کی عمارت کی تعمیر اور حفلا گنج (کٹیہار) کے علاوہ پرائمری صحت مرکز بھون کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔

اس تقریب میں بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تارکشور پرساد اور وزیر صحت منگل پانڈے موجود رہے، لیکن اسٹیج پر جو پوسٹر لگا تھا، اس میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی نہ تو تصویر تھی اور نہ ہی ان کے نام کا ذکر تھا۔ اسٹیج پر لگے بینر میں نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت کی تصویر ضرور تھی۔ قابل ذکر ہے کہ نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت دونوں ہی بی جے پی کے لیڈر ہیں۔ بہار میں بی جے پی کے ساتھ جنتا دل یو اتحادی حکومت چلا رہی ہے۔ گزشتہ سال ہوئے اسمبلی انتخاب میں جنتا دل یو سے زیادہ سیٹ لا کر بی جے پی بڑے بھائی کے کردار میں سامنے آئی ہے۔


بہر حال، اسٹیج پر لگے بینر سے وزیر اعلیٰ کی تصویر غائب ہونے پر جنتا دل یو کے لیڈروں کی بھنویں تنی ہوئی ہیں، جس سے اسٹیج پر بی جے پی لیڈروں کی بھی حالت کشمکش والی نظر آئی۔ براری کے رکن اسمبلی وجے سنگھ اور میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میئر سورج پرکاش رائے سمیت جنتا دل یو لیڈروں نے ناراضگی ظاہر کی۔ لیڈروں کا کہنا ہے کہ تقریب منعقد کرنے والوں کے ذریعہ وزیر اعلیٰ کو نظرانداز کر کے بے عزتی کی گئی۔ لیڈروں نے کہا کہ ’’سرکاری پروگرام میں وزیر اعلیٰ کی تصویر نہیں لگانا بڑی غلطی ہے۔ تختی پر بھی مقامی رکن اسمبلی کا نام نہیں دیا گیا ہے۔ آرگنائزنگ کمیٹی نے یہ بڑی غلطی کی۔‘‘ اس درمیان جنتا دل یو لیڈروں نے این ڈی اے میں کسی طرح کی نااتفاقی سے انکار کیا ہے۔

دوسری طرف نائب وزیر اعلیٰ تارکشور پرساد بھی اس واقعہ کے بعد کشمکش والی حالت میں نظر آئے۔ انھوں نے اس واقعہ کو غلطی مانتے ہوئے کہا ’’لگتا ہے نادانستہ طور پر یہ ہو گیا۔ ہم لوگ تو وزیر اعلیٰ جی کی قیادت میں ہی کام کرتے ہیں اور ان کی کابینہ کے ساتھی ہیں۔‘‘


کٹیہار میں پیش آئے اس واقعہ کے بعد اپوزیشن لیڈران خوب طنز کس رہے ہیں۔ آر جے ڈی ترجمان مرتیونجے تیواری کہتے ہیں کہ اروناچل پردیش میں جنتا دل یو کے اراکین اسمبلی کو توڑنے کے بعد بی جے پی اب بہار میں اپنا رنگ دکھانے لگی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی اب نتیش کمار کو اقتدار سے بے دخل کرنا چاہ رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بہار میں بی جے پی کا کھیل شروع ہو گیا ہے اور یہی بی جے پی کا ’کھیلا ہوبے‘ ہے۔

تیواری کہتے ہیں کہ سرکاری تقریب میں وزیر اعلیٰ کی تصویر نہیں ہونا اپنے آپ میں بی جے پی کا پیغام ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر یہ غلطی سے ہوا ہے، تو اس غلطی کے بعد کس پر اور کیا کارروائی ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی اب بہار میں ’کھیلا ہوبے‘ شروع کر چکی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔