مرحوم حافظ اسحاق کی اہلیہ کا انتخاب، گاؤں کا ماحول بگاڑنےوالوں کے منہ پر طمانچہ

گاؤں کے رہنے والے نوین کمار کا سکینہ بی کی جیت پر کہنا تھا کہ ان کو بہت خوشی ہے کیونکہ گاؤں کے آس پاس کے سماج میں موجودہ بھائی چارے پر سوال اٹھ رہے تھے جس کا بہت برا ثر پڑ رہا تھا۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد
user

آس محمد کیف

بریلی کے کیارا بلاک کے پرگواں گاؤں میں قتل کیے گئے حافظ اسحاق کی اہلیہ کو گاؤں والوں نے ایک طرفہ عوامی حمایت دے کر پردھان منتخب کر لیا ہے۔ واضح رہے اس گاؤں میں گزشتہ ماہ حافظ اسحاق نے پردھان کا چناؤ جیتا تھا اور چناؤ جیتنے کے کچھ دنوں بعد اپنی ہار سے بوکھلائے حافظ اسحاق کے حریف موہر سنگھ پر الزام ہے کہ انہوں نے حافظ اسحاق کا قتل کر دیا تھا۔ جس کے سبب علاقہ میں فرقہ وارانہ تناؤ پیدا ہوگیا تھا اور یہ معاملہ کافی مشہور ہوا تھا۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد

واضح رہے حافظ اسحاق 59 ووٹوں سے چناؤ جیتے تھے اور اب ان کی اہلیہ سکینہ 563 ووٹوں سے چناؤ جیتی ہیں۔ حافظ اسحاق کے قتل کے الزام میں جیل میں بند موہر سنگھ کی اہلیہ کو صرف 13 ووٹ ہی گاؤں والوں نے دیئے۔ واضح رہے اس گاؤں میں کل 1684 ووٹر ہیں جس میں 840 ووٹ غیر مسلم حضرات کے ہیں اور 844 ووٹ مسلم برادری کے ہیں اور سکینہ کو 884 ووٹ ملے ہیں جبکہ موہر سنگھ کی اہلیہ کو صرف 13 ووٹ ملے ہیں۔


نو منتخب پردھان سکینہ بی حافظ اسحاق کی بیوا ہیں۔ حافظ اسحاق کا 20مئی کو ان کے مخالفین کے ذریعہ ان کا قتل کر دیا گیا تھا۔ قتل کے بعد گاؤں کا ماحول خراب ہو گیا اور پولیس نے کارروائی کر کے مرکزی ملزم موہر سنگھ سمیت ملزمین کو گرفتار کر لیا تھا۔ بعد میں پردھان کے دوبارہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد یہ نتائج سامنے آئے ہیں۔

پردھان کے ضمنی انتخابات میں ویسے تو کئی امیدوار میدان میں تھے لیکن ماحول کی وجہ سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ مقابلہ حافظ اسحاق کی بیوا سکینہ بی اور حافظ اسحاق کے مبینہ قاتل موہر سنگھ کی اہلیہ ریشمی کے درمیان ہوگا، لیکن نتائج سے واضح ہو گیا کہ گاؤں والوں نے موہر سنگھ کی اہلیہ کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ سکینہ بی کو 884 ووٹ حاصل ہوئے، جبکہ دوسرے نمبر پر امر ناتھ کو 321 ووٹ، تیسرے نمبر پر اجے پٹیل کو 136 ووٹ، ریشمی کو 13 ووٹ اور کئی امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوگئی۔


سکینہ نے اپنی کامیابی کے بعد کہا کہ یہ جیت ان کی نہیں ہے بلکہ ان کے مرحوم شوہر کی ہے اور گاؤں والوں نے ان کے مرحوم شوہر کو ایک مرتبہ پھر کامیاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں والوں نے جس اعتماد کا اظہار ان پر کیا ہے وہ اس اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کریں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک ان کے مرحوم شوہر کے قاتلوں کو سزا نہیں مل جائے گی جب تک وہ انصاف کے لئے جد و جہد کرتی رہیں گی۔

گزشتہ 20 مئی کی شام کو جب اسحاق اپنی اہلیہ کے ساتھ دوائی لے کر گھر واپس لوٹ رہے تھے تب کچھ مخالفین نے ان پر گولی باری شروع کر دی، جس سے ان کا موقع پر ہی انتقال ہو گیا اور ان کی اہلیہ اس حملہ میں زخمی ہوگئیں۔ قتل کے دن اسحاق کی جیت کو یعنی اس کو پردھان منتخب ہوئے صرف 17 دن ہی گزرے تھے۔ سکینہ کی جیت کی خبر کے بعد کینٹ کےانسپیکٹر راجیو سنگھ خود فورس لے کر ان کے پاس پہنچے اور پورے حفاظتی انتظامات کے ساتھ انہیں گاؤں پہنچایا۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد

گاؤں کے رہنے والے نوین کمار کا سکینہ بی کی جیت پر کہنا تھا کہ ان کو بہت خوشی ہے کیونکہ ان کے شوہر کا قتل بہت ہی افسوسناک اور تکلیف دہ تھا اور اس سے گاؤں کے آس پاس کے سماج میں موجود بھائی چارے پر سوال اٹھ رہے تھے جس کا بہت برا ثر پڑ رہا تھا۔

حافظ اسحاق کے بھائی رضا نے بتایا کہ جس دن ضمنی انتخابات ہوئے تھے اس دن بہت تیز بارش ہو رہی تھی، لیکن تیز بارش کے با وجود ووٹر رکے نہیں اور ان ووٹر کا مقصد ہندو مسلم بھائی چارے کی حفاظت کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں کے لوگوں نے گاؤں کے بھائی چارے اور آپسی محبت کو بچا لیا جس کے ہم سبھی احسان مند ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔