دہشت گردی کے الزامات میں 4 سال سے قید حبیب میاں رہا، اپنے گھر تری پورہ پہنچے

مسلمانوں سے متعلق میڈیا کا دہرا رویہ تشویشناک، گرفتاریوں کا ڈھنڈورا لیکن عدالت سے رہائی کا کوئی ذکر نہیں: مولانا ارشد مدنی

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: بنگلور سیشن عدالت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات سے ڈسچار ج کیے گئے تریپورہ کے حبیب میاں کی کل جیل سے رہائی عمل میں آئی، جس کے بعد انہیں بنگلور سے بذریعہ ہوائی جہاز تریپورہ بھیج دیا گیا، تریپورہ پہنچنے کے بعد حبیب میاں نے بذریعہ فون گلزار اعظمی (سکریٹری قانونی امداد کمیٹی جمعیۃ علماء مہاراشٹر ارشد مدنی) سے گفتگو کی اور ان کا مقدمہ لڑنے کے ساتھ ساتھ اسے صحیح سلامت اس کے گھر پہنچانے تک مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ اس ضمن میں گلزار اعظمی نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جیل سے رہائی کے بعد بھی ملزم کا تریپورہ پہنچنا مشکل ہو رہا تھا کیونکہ اس کے پاس کسی بھی طرح کا شناختی کارڈ نہ ہونے کہ وجہ سے بنگلور ائیر پورٹ پر پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، جسے ائیر پورٹ اتھاریٹی سے گفتگو کرکے حل کیا گیا، جس کے بعد حبیب میاں کو ہوائی جہاز میں بغیر کسی شناختی کارڈ کے سفر کرنے کی اجازت ملی۔

مولانا مدنی نے کہا کہ مسلمانوں سے متعلق میڈیا کا دہرا رویہ تشویشناک ہے، گرفتاریوں کا خوب شور مچایا جاتا ہے، لیکن عدالت سے رہائی ہوتے ہی ان کو سانپ سونگھ جاتا ہے، مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ جب تک خاطی پولیس افسران کو سزا نہیں دی جاتی تب تک انصاف ادھورا ہے لیکن جب ہم سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہم سے کہا جاتا ہے کہ ایسا کرنے سے پولیس اورسیکورٹی ایجنسیوں کا مورل کمزور ہوگا، جب کہ سچائی یہ ہے کہ جس طرح بے گناہوں کو دہشت گردی کے جرم میں پھنسایا گیا ہے، یا اب بھی پھنسایا جا رہا ہے اس پوری قوم کا مورل گر رہا ہے۔


مولانا مدنی نے کہا کہ پولیس افسران کو سزا دلانے کے تعلق سے بھی قانونی جدوجہد کی جا رہی ہے، ساتھ ہی متاثرین کے لئے جو عدالتوں سے باعزت رہا ہوچکے ہیں، معاوضہ کے لئے بھی کوششیں جاری ہیں۔ جیل سے رہائی کے بعد حبیب میاں نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بنگلور آئے نہیں اور نہ ہی انہیں بنگلور شوٹنگ مقدمہ کے تعلق سے کوئی جانکاری ہے، پولیس نے جب انہیں تریپورہ سے گرفتار کرکے بنگلور لائے اس وقت وہ پہلی بار بنگلور شہر آیا تھا اور وہ اس مقدمہ میں ماخوذ کسی بھی ملزم سے نا تو کبھی ملا اور نہ ہی وہ کسی کو جانتا ہے۔

پیشہ سے رکشا ڈرائیور باریش حبیب میاں نے بتایا کہ ان کی گرفتاری کا صدمہ ان کے والد برداشت نہ کرسکے اور ان کا انتقال ہوگیا، جبکہ گزشتہ چار سال قید کے دوران ان کا جو ذاتی نقصان ہوا وہ اسے بیان نہیں کرسکتے، مجھے اور میرے اہل خانہ کو جو جسمانی اور ذہنی اذیتیں ملی ہیں، میں اسے لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا، لیکن اس دوران مجھے جمعیۃ علماء کی قانونی امداد ملی جس کی وجہ سے آج میں مقدمہ سے بری ہوگیا اور میرے اوپر لگا دہشت گردی کا داغ بھی دھل گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ شکر گزار ہیں جمعیۃعلماء کے جن کی کوششوں سے انہیں مقدمہ سے بری کیا گیا ورنہ پتہ نہیں کب ٹرائل شروع ہوتا اور کب اس کا اختتام ہوتا اور انہیں اسی طرح جیل کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی اور ان کے اہل خانہ بھی پریشان رہتے۔


واضح رہے کہ بنگلور پولیس نے ملزم پر تعزیرات ہند کی دفعات 120-B, 121,121-A,122,123,307,302، آرمس ایکٹ کی دفعات25,27، دھماکہ خیز ماد ہ قانون کی دفعہ 6 اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون کی دفعات 10,13,16,17,18,20 کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا اور اس پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا جس سے بنگلور کی سیشن عدالت نے 14 جون کو انہیں بری کر دیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔