چین ہندوستان کے سیاست دانوں کی جاسوس کر رہا ہے

انگریزی اخبار کے مطابق چین مودی، سونیا، منموہن سمیت 24 وزراء اعلی اور 350 ارکان پارلیمنٹ کی جاسوسی کر رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا بشکریہ ٹیک لاگ 360
تصویر سوشل میڈیا بشکریہ ٹیک لاگ 360
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان میں چین کے ذریعہ کی جا رہی جاسوسی کے تعلق سے انگریزی اخبار انڈئن ایکسپریس نے ایک بڑا خلاصہ کیا ہے۔ چین اب ایل اے سی یعنی سرحد پر ہی نہیں بلکہ ڈجیٹل پلیٹ فارم پر بھی ہندوستان کے خلاف سازش رچ رہا ہے۔ اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق چین ہندوستان میں آئینی عہدوں پر بیٹھے بڑے سیاست دانوں اور افسران کی جاسوسی کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین وزیر اعظم نریندر مودی سمیت سابق اور موجودہ وزراء اعظم ، 24 وزراء اعلی، 350 ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، میئر، سرپنچ اور افسران کی جاسوسی کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین 1350 افراد کی جاسوسی کرا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چینی کمپنی شینزین انفوٹیک اور ژنہوا انفوٹیک یہ جاسوسی کر رہی ہے۔ شینزین انفوٹیک کمپنی چین کی کمیونست پارٹی کی حکومت کے لئے جاسوسی کرتی ہے۔ واضح رہے اس کمپنی کا کام دوسرے ممالک پر نطر رکھنا ہے۔

چین کی جاسوسی میں مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے، مغربی بنگال کی ممتا بینرجی، دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا ، جھارکنڈ کے وزیر اعلی ہیمنت سورین اور اڈیشہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک سمیت ملک کے کل 24 موجودہ وزراء اعلی شامل ہیں۔ اس فہرست میں 16 سابق وزیر اعلی بھی شامل ہیں۔ واضح رہے سیاسی پارٹیوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ میں جن اہم شخصیات کی جاسوسی ہو رہی ہے ان میں وزیر اعظم نریندر مودی، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، کانگریس صدر سونیا گاندھی، چیف آف ڈفینس اسٹاف بپن راوت، چیف جسٹس آف انڈیا بوبڈے، 24 وزیر اعلی، 16 سابق وزراء اعلی، 350 ارکان پارلیمنٹ اور 70 میئر شامل ہیں۔

next