یوگی کا غنڈہ راج: این ایس اے کے تحت گرفتاریوں میں پچاس فیصد گئوکشی کے معاملے... م-افضل

اب ان معاملات پر ملک کے دانشوروں، صحافیوں، انصاف پسندوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں اور خاص طور پر سیکولر حلقوں کو غور کرنے کی اشد ضررورت ہے ورنہ کل تک بہت دیر ہوجائے گی۔

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ 
وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ
user

م. افضل

یوگی سرکار جب سے اقتدار میں آئی ہے اترپردیش میں فرقہ واریت اور انتقام کی سیاست کو زبردست بڑھاوا ملا ہے، جس ایجنڈے پر مرکز کی مودی سرکار پچھلے چھ برس سے کام کر رہی ہے، یوگی سرکار بھی اسی ایجنڈے پر منصوبہ بند طریقہ سے چل رہی ہے، بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ اس معاملہ میں وہ مودی سرکارسے بھی دو قدم آگے ہے، اکثریت کو خوش کرنے کی پالیسی کے تحت اب اقلیتی طبقہ کو چن چن کرنشانہ بنایا جا رہا ہے، پولس کو اس بات کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے کہ وہ ہر معاملہ میں انصاف اور قانون کو بالائے طاق رکھ کر اقلیتی طبقہ کو اپنی بربریت کا شکار بنائے اور انہیں سخت دفعات کے تحت اٹھا اٹھاکر جیلوں میں ڈھونستی رہے۔ حال ہی میں انگریزی کے مشہور و معروف اخبار انڈین ایکسپریس نے جلی سرخی کے ساتھ ایک ایسی تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس نے یوگی سرکارکی مسلم دشمنی کا نہ صرف پردہ فاش کر دیا ہے بلکہ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جمہوری طریقہ سے چنی ہوئی ایک سرکار کس طرح غیر جمہوری طریقہ سے کام کر کے آئین وقانون کی کھلے عام دھجیاں اڑا رہی ہے۔

جیسا کہ سب کے علم میں ہے کہ اترپردیش میں گئو کشی پر نہ صرف مکمل پابندی ہے بلکہ اقتدار میں آنے کے بعد یوگی سرکار نے اس کی روک تھام کے لئے جو قانون پہلے سے موجود تھا اس میں ترمیم کرکے اسے مزید سخت بنا دیا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے سخت قانون کی موجودگی کے باوجود گئو کشی کے الزام میں جو لوگ پکڑے جاتے ہیں پولس ان پر دھڑلے سے این ایس اے لگا رہی ہے، انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق 2020 اگست ماہ تک گئو کشی کے کل 1716 معاملے درج ہوئے جن میں چارہزار سے زائد لوگوں کو تو گئوکشی روک تھام قانون کے تحت گرفتارکیا گیا ہے جب کہ 2384 کے خلاف اترپردیش گینگیسٹر ایکٹ کے تحت کارروائی ہوئی ہے اور 1742 لوگوں پر غنڈہ ایکٹ لگادیا گیا ہے۔

اخبارکی رپورٹ کے مطابق 19اگست تک اترپردیش میں کل 139 افراد پر این ایس اے لگایا گیا ہے جن میں 76 وہ لوگ شامل ہیں جن پر گئوکشی کا الزام ہے گویا انہیں بھی قومی سلامتی کے لئے خطرہ سمجھ لیا گیا اور ان کے خلاف این ایس اے لگانا ضروری ہوگیا، قابل ذکر ہے کہ این ایس سی ایک ایسا قانون ہے کہ اگر اس کے تحت کسی کی گرفتاری ہوتی ہے تو اس کو کسی جرم کے بغیر بھی ایک سال تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے لیکن اس کا نفاذ تب ہی ہوسکتا ہے جب انتظامیہ کسی شخص کو قومی سلامتی اور امن وقانون کے لئے ایک خطرہ تصورکرے اترپردیش میں گئوکشی پر مکمل پابندی ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص گئوکشی کرتا ہے تویہ ایک جرم ہے اور اس جرم کے لئے الگ سے ایک سخت قانون موجود ہے ایسے میں یہ بنیادی سوال بہت اہم ہے کہ ایسے لوگوں پر آخر این ایس اے کیوں لگایا گیا؟

اترپردیش کے ایڈیشنل چیف سکریٹری برائے داخلہ اونیش کمار اوستھی دلیل دیتے ہیں کہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ ہدایت دے رکھی ہے کہ ایسے مجرمانہ معاملوں میں جن سے امن عامہ کو خطرہ ہو، این ایس اے کے تحت کارروائی کی جائے تاکہ مجرموں میں خوف پیدا ہو اور عام شہریوں میں تحفظ کا احساس جاں گزیں ہو، مگر سچائی اس سے ایک دم الٹ ہے ان تمام تر اقدامات کے باوجود جو واقعی جرائم پیشہ عناصر ہیں آزاد ہیں، قتل اورعصمت دری کے واقعات روزکا معمول بن چکے ہیں ریاست جرائم کی آماجگاہ بن چکی ہے۔ عام شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس اس قدرشدید ہوچکا ہے کہ لوگ گھروں سے نکلتے ہوئے بھی ڈر رہے ہیں، معصوم بچیوں کو جس طرح درندگی کا شکار بنایا جا رہا ہے اس سے والدین کی آنکھوں سے نیندیں چھن چکی ہیں دوسرے شہروں اور قصبات کو تو چھوڑیئے راجدھانی لکھنو میں سرکار کی ناک کے نیچے جرائم پیشہ عناصر خاموشی سے آتے ہیں اور اپنا کام کرکے صاف نکل جاتے ہیں۔

جس اترپردیش پولس کو جرائم کی روک تھام کے لئے ہر طرح کی آزادی دے دی گئی ہے وہ ہاتھ پر ہاتھ دھڑے بیٹھی رہتی ہے لیکن وہ یوگی سرکار کے مسلم مخالف ایجنڈے سے غافل نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو ابتدا میں جو اعدادوشمار پیش کیے گئے ہیں اس کی تصویر کچھ الگ ہوتی، سچائی تو یہ ہے کہ مجرموں کو ان کے کیفرکردارتک پہنچانے کی جگہ پولس ریاستی سرکار کے اشارے پر اپنا سارا زور مسلمانوں کو مجرم بنانے پر لگا رہی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ بیشترگرفتاریاں گئوکشی کے الزام میں ہو رہی ہیں اور ان پر دوسری دفعات لگانے کے ساتھ ساتھ این ایس اے بھی لگایا جارہا ہے، یہاں تک کہ سی اے اے کو لیکر ریاست میں جو پرامن احتجاج ہوا اس کو لیکر بھی اب لوگوں پر این ایس اے لگایا جارہا ہے، انڈین ایکسپریس نے اپنی اسی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا ہے کہ سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے کے جرم میں پولیس اب تک 13 لوگوں پر این ایس اے لگاچکی ہے اس پس منظرمیں جب اخبار کے نمائندہ نے ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل لا اینڈآرڈر پرکاش کمار سے استفسار کیا تو ان کا مختصرجواب تھا کہ پولیس یہ کارروائی ثبوت کی بنیاد پر کر رہی ہے سوال یہ ہے کہ اگر کسی معاملہ کو لیکر کوئی پر امن احتجاج یا مظاہرہ کرتا ہے توکیا قومی سلامتی کے لئے اسے بھی خطرہ قرار دیا جاسکتاہے؟ جی ہاں یوگی سرکار نے حکمرانی کے جو نئے اصول وضع کیے ہیں اس میں احتجاج بھی ایک سنگین جرم کے دائرہ میں آتا ہے اور اگر اس طرح کے کسی احتجاج میں مسلمان بھی شامل ہو تو پھر یہ احتجاج ایک ناقابل معافی سنگین جرم بن سکتا ہے اپنی کارروائی سے یوگی سرکارنے اسے ثابت بھی کردیا ہے۔

ملک کے آئین نے ہر شہری کو یکساں حقوق اور اختیارات دیئے ہیں وہیں انہیں احتجاج کا حق بھی دیا ہے لیکن جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے آئین کے تمام رہنما اصولوں کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا ہے اور ان کی جگہ آمرانہ روش کو ہی قانون کا درجہ دے دیا گیا ہے، چنانچہ اترپردیش کا حال اب یہ ہے کہ سرعام انسانی حقوق کی پامالیاں ہو رہی ہیں احتجاج کی ہر صدا کو طاقت کے زور سے دبانے کی کوشش ہو رہی ہے، سی اے اے جیسا امتیازی قانون جب لایا گیا تھا تو اس کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا تھا اس احتجاج میں ہر مذہب اور ہر برادری کے لوگ شامل تھے کیونکہ یہ ایک آئین مخالف قانون تھا ابتدا میں بی جے پی لیڈروں نے اپنے بیانات اور میڈیا کے توسط سے اکثریتی طبقے کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اس قانون کی مخالفت مسلمان کر رہے ہیں چونکہ ہندوؤں کے حق میں لایا گیا قانون ہے مگر جب یہ کوشش بھی ناکام رہی تو اس احتجاج کو جگہ جگہ طاقت کے زور سے دبانے کی کوشش کی گئی، اترپردیش میں یوگی سرکار نے کچھ زیادہ ہی سختی کا مظاہرہ کیا سماجی کارکنان کی گرفتاریاں ہوئیں احتجاج میں شامل لوگوں پر لاٹھیاں برسائی گئیں اور جب اس سے بھی تسلی نہیں ہوئی تو لوگوں کو گرفتار کر کرکے انہیں جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب کورونا کی وبا نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اترپردیش بھی اس وبا کا بری طرح شکار ہے ملک اقتصادی تباہی سے دوچار ہوچکا ہے کاروبار بند ہیں عام لوگوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے، کروڑوں بے روزگارہوچکے ہیں اور مالی پریشانیوں سے تنگ آکر لوگ خودکشی کرنے پر مجبور ہیں، یوگی سرکار بہت خاموشی سے اپنے مسلم مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، سی اے اے کے خلاف احتجاج میں جو لوگ آگے آگے رہے اب ایک ایک کرکے انہیں گرفتار کیا جارہا ہے اور ان پر این ایس اے لگایا جا رہا ہے۔

اترپردیش میں یہ جو کچھ ہو رہا ہے کانگریس ابتدا سے اس کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے، راہل گاندھی ہوں یا پرینکاگاندھی انہوں نے سی اے اے کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والوں پر پولیس کے ذریعہ ڈھائے گئے مظالم کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی تھی ابھی حال ہی میں جب ڈاکٹرکفیل پر جبراً دوبارہ این ایس اے لگایا گیا تو کانگریس لیڈروں نے پوری ریاست میں اس کے خلاف تحریک شروع کی تھی، حالانکہ کانگریس پچھلے تین دہائی سے اترپردیش میں اقتدار سے باہر ہے لیکن وہ علاقائی پارٹیاں جو مسلمانوں کے ووٹ سے اقتدار کی بندر بانٹ میں شامل رہی ہیں وہ خاموش ہیں ان کی خاموشی گہرے سوال کھڑے کرتی ہے، حیرت انگیزبات تو یہ ہے کہ ان پارٹیوں نے اپنے ان مسلم لیڈروں کی حمایت کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی جنہیں انتقامی کارروائی کے تحت جیلوں میں بند کردیا گیا ہے، خود کو سیکولر اور مسلم دوست کہنے والی ان علاقائی پارٹیوں نے سی اے اے کے خلاف ہونے والے احتجاج کی بھی حمایت نہیں کی، جب کہ اس آئین مخالف قانون کے خلاف انہیں سڑکوں پر اترنا چاہیے تھا ان سیاسی پارٹیوں کی خاموشی کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھاکر اکثریت کو ناراض نہیں کرنا چاہتیں، جبکہ برہنہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی حمایت پر ہی ان کا وجود ٹکا ہوا ہے۔

یوگی سرکار کے اقتدارمیں آنے کے بعد سے اقلیتی فرقہ خوف ودہشت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے گئو کشی کے الزام کی آڑ لیکر ہونے والی گرفتاریاں ہوں یا پھر سی اے اے کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والوں کے ہونے والی جبریہ قانونی کارروائی، یہ سب اس ایجنڈے کا حصہ ہیں جو ریاست میں مسلمانوں کو اقتصادی، معاشی اور سیاسی طور پر کمزور کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے، یہ ایک ایسا نفسیاتی حربہ ہے کہ جس کے ذریعہ مسلمانوں کے حوصلوں کو پست کرنے کی درپردہ سازش ہو رہی ہے، ان لوگوں نے یہ خوش فہمی بھی پال رکھی ہے کہ مسلمانوں کو جس قدر کچلا اور دبایا جائے گا اکثریت اتنی ہی خوش ہوگی اور اس طرح ان کا اقتدار تا دیر قائم رہے گا، بہت ممکن ہے کہ ان کی یہ خوش فہمی درست ہو مگر کیا کسی حکمراں کو اس بات کی آزادی حاصل ہے کہ وہ آئین کی دھجیاں اڑاکر امن وقانون کی دہائی دیکر انصاف اور قانون کا جس طرح چاہے خون کرتا رہے اور سب خاموشی سے دیکھتے رہیں؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے اور اب اس پر ملک کے دانشوروں، صحافیوں، انصاف پسندوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں اور خاص طور پر سیکولر حلقوں کو غور کرنے کی اشد ضررورت ہے ورنہ کل تک بہت دیر ہوجائے گی۔

Published: 13 Sep 2020, 10:39 PM
next