پی چدمبرم نے سنٹرل وِسٹا پروجیکٹ کو لے کر اٹھائے سنگین سوالات

کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے منگل کے روز سنٹرل وِسٹا پروجیکٹ کا ایشو اٹھاتے ہوئے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے سامنے سوال بھی رکھے۔

پی چدمبر، تصویر یو این ّئی
پی چدمبر، تصویر یو این ّئی
user

قومی آوازبیورو

کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے منگل کے روز سنٹرل وِسٹا پروجیکٹ کا ایشو اٹھاتے ہوئے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹوئٹس کی ایک سیریز میں انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی ترجمان طبی ڈھانچے میں اصلاح کے لیے پیسے کا استعمال کیے بغیر اشتہارات پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کا دہلی حکومت پر الزام لگاتے ہیں۔ تنقید جائز ہے۔‘‘ اور پھر ایک دیگر ٹوئٹ میں انھوں نے لکھا ’’بی جے پی حکومت سنٹرل وِسٹا کے لیے صرف 20 ہزار کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے، جس سے وزیر اعظم کا گھر بنے گا۔ یہ تنقید جائز نہیں ہے۔‘‘

اس کے بعد پی چدمبرم نے ایک اور ٹوئٹ کیا جس میں کووڈ مینجمنٹ کے لیے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’وبا مینجمنٹ کے تین اصول ہیں- پہلا، کسی بھی چیز کی کمی کو مسترد کر دینا۔ اگر کمی کی کئی میڈیا رپورٹس ہیں تو اسے زیادہ سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ دوسرا، کم لوگوں کی ٹیسٹنگ سے، نئے انفیکشن کی رپورٹ کم۔ تیسرا، آخری رسومات اور دفن کیے لوگوں میں کووڈ سے متعلق اموات کم ہیں، ٹی ایف آر کی رپورٹ بھی کم۔‘‘

واضح رہے کہ لٹین زون میں سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کی تنقید کرنے میں کانگریس سب سے آگے رہی ہے اور اس نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی نے اپنی ترجیحات کو فراموش کر دیا ہے۔ کانگریس کا ماننا ہے کہ ٹیکہ کاری عمل اور کووڈ مینجمنٹ کے لیے ایک ہی پیسہ خرچ کیا جانا چاہیے۔

قابل غور ہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے پیر کو روز اپنی تجویز میں کہا تھا کہ ایسے وقت میں جب ملک کے وسائل کو ٹیکہ کاری کوریج اور ضروری ادویات اور آکسیجن کی فراہمی کی توسیع کو یقینی بنانے کے لیے خودسپرد ہونا چاہیے، مودی حکومت قومی راجدھانی میں وزیر اعظم کے نجی وینٹی پروجیکٹ کو جاری کرتے ہوئے پیسے کی بربادی میں ملوث ہے۔ یہ ملک کے عوام کے لیے بے عزتی اور بے حسی کی اونچائی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔