ایودھیا: ہندو اکثریتی گاؤں میں پنچایت الیکشن جیت کر حافظ عظیم الدین نے کیا حیران

راجہ پور گاؤں ہمیشہ سے ہی ہندو اکثریتی علاقہ رہا ہے اور یہاں اکثر ہندوؤں کو ہی پردھان منتخب کیا جاتا رہا ہے، لیکن اس بار حافظ عظیم الدین نے پردھان بن کر سبھی کو حیران کر دیا ہے۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

اتر پردیش میں پنچایت الیکشن کے نتائج برآمد ہو چکے ہیں اور اب ان نتائج سے جڑے اہم اور حیران کرنے والے پہلوؤں پر خبریں شائع ہو رہی ہیں۔ اس بار اتر پردیش کا پنچایت الیکشن کئی معنوں میں خاص رہا۔ کئی بڑے ناموں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، تو کئی ایسے لوگوں نے جیت درج کی جس کے تعلق سے کسی کو امید نہیں تھی۔ ایسا ہی ایک معاملہ فیض آباد ضلع کے راجہ پور گاؤں میں سامنے آیا ہے۔ ایودھیا کے اس گاؤں میں ہندوؤں کی اکثریت ہے، لیکن پہلی بار ایک مسلم امیدوار نے فتح حاصل کر سبھی کو حیران کر دیا ہے۔

دراصل راجہ پور گاؤں میں حافظ عظیم الدین نے الیکشن جیت کر پردھان بننے کا اپنا خواب شرمندۂ تعبیر کر لیا ہے۔ راجہ پور گاؤں ہمیشہ سے ہی ہندو اکثریتی علاقہ رہا ہے اور یہاں اکثر ہندوؤں کو ہی پردھان منتخب کیا جاتا رہا ہے۔ اس بار حافظ عظیم الدین نے پردھان بن کر سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انھوں نے کثیر ووٹوں کے فرق سے یہ جیت حاصل کی ہے جس سے ظاہر ہے کہ ہندو طبقہ نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے دل کھول کر اپنا ووٹ دیا۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق راجہ پور گاؤں میں کل 600 ووٹ ہیں جن میں سے 200 ووٹ حافظ عظیم الدین نے حاصل کر لیے۔ ان کے علاوہ 6 مزید امیدوار کھڑے ہوئے تھے جن کا تعلق ہندو طبقہ سے تھا، اور جس امیدوار نے دوسرا مقام حاصل کیا اسے حافظ عظیم الدین سے 85 ووٹ کم حاصل ہوئے تھے۔ یہاں قابل غور بات یہ بھی ہے کہ علاقے میں صرف 27 مسلم ووٹ ہیں، گویا کہ بقیہ ووٹ ہندوؤں نے حافظ عظیم الدین کو دیئے اور ہندو-مسلم اتحاد و اعتماد کی ایک بہترین مثال پیش کی۔

اپنی کامیابی کو حافظ عظیم الدین نے عید کا تحفہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’’علاقے میں 27 مسلم ووٹ ہیں اور بقیہ ووٹ مجھے ان ہندوؤں نے دیئے ہیں جنھیں مجھ پر بھروسہ ہے۔‘‘ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ راجہ پور علاقہ میں واحد مسلم خاندان حافظ عظیم الدین کا ہی ہے۔ گویا کہ عظیم الدین کے خاندان سے 27 ووٹ ہیں اور باقی ووٹ جو ہندوؤں نے عظیم الدین کو دیئے ہیں، وہ انھیں اچھی طرح سے جانتے ہیں اور بھروسہ کرتے ہیں کہ علاقے کی ترقی کے لیے بہتر کام کریں گے۔ ایک مقامی باشندہ شیکھر ساہو کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے مذہب کی بنیاد پر ووٹ نہیں دیا۔ ہمارے ذہن میں صرف یہ تھا کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔ ہم لوگ کٹر ہندو ہیں لیکن ایک مسلم عالم کو اپنا ہیڈ منتخب کیا، کیونکہ ہم یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ ہم سیکولرزم میں کتنا یقین رکھتے ہیں۔‘‘

عظیم الدین پیشہ سے کسان ہیں اور ان کا خاندان بھی اسی پیشے سے جڑا ہوا ہے۔ انھوں نے مدرسہ سے حافظ اور عالم کی ڈگری حاصل کی اور خاندانی پیشہ اختیار کرنے سے پہلے دس سالوں تک مدرسہ میں تعلیم بھی دی۔ اب وہ علاقے کی ترقی کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ اپنی کامیابی کے تعلق سے حافظ عظیم الدین کا کہنا ہے کہ ’’یہ الیکشن جیتنا اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ کئی ہندو امیدوار ان کے سامنے الیکشن میں کھڑے تھے۔ مجھے بھی کم امید لگ رہی تھی کہ الیکشن جیت پائیں گے۔ لیکن انتخابی نتیجہ نے ایک الگ ہی تاریخ لکھ دی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 11 May 2021, 4:11 PM