’بی جے پی لیڈروں کو صرف جھوٹ بولنے کی پریکٹس اور ٹریننگ‘، وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کا بی جے پی پر حملہ

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے کہا کہ بی جے پی لیڈروں کو پریکٹس اور ٹریننگ صرف جھوٹ بولنے کی ہے، ان کو لگتا ہے کہ ایک جھوٹ کو 100 بار بولنے سے عوام اسے سچ مان لے گی۔

<div class="paragraphs"><p>بھوپیش بگھیل، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

بھوپیش بگھیل، تصویر آئی اے این ایس

user

قومی آوازبیورو

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے بی جے پی پر آج شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی لیڈروں کو صرف چھوٹ بولنے کی پریکٹس اور ٹریننگ ہے، وہ یہی سیکھ کر آئے ہیں۔ ایک جھوٹ کو سو بار بولو تو سچ محسوس ہوتا ہے، لیکن چھتیس گڑھ کے عوام جانتی ہے کہ اگر مرکزی حکومت رقم دیتی تو رمن سنگھ 10 کوئنٹل دھان کیوں خریدتی۔ مرکز فصل خریدتی ہے کہاں، ہریانہ پنجاب میں، جو ایف ایس سی آئی خریدتی ہے۔

بگھیل نے کہا کہ ایف ایس سی آئی کے ذریعہ سے مرکز دھان کی خریدی کر لیتی تو تین سال پہلے ہم کو دھان کی نیلامی کیوں کرنی پڑتی۔ ریاستی حکومت نے 1900-2000 کا ریٹ طے کیا تھا اور ہم نے 1400-1300 روپے میں فروخت کیا تو جو فرق کا پیسہ آیا، کیا مرکزی حکومت نے پیسہ دیا؟ حکومت ہند نے نہیں دیا۔ خسارہ تو ریاستی حکومت کا ہوا۔ آپ چاول خریدو نہ خریدو، ہم کسانوں کا دھان خریدنا بند نہیں کریں گے۔ چاول صرف حکومت ہند نہیں خریدتی، ریاستی حکومت بھی خریدتی ہے۔ سول سپلائی ڈیپارٹمنٹ میں جو چاول آتا ہے وہ کس کا ہے، ریاست کا ہے۔


چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بگھیل کا کہنا ہے کہ بی جے پی لیڈروں کو پریکٹس اور ٹریننگ صرف جھوٹ بولنے کی ہے، ان کو لگتا ہے کہ ایک جھوٹ کو سو بار بولنے سے عوام اسے سچ مان لے گی۔ ہماچل اور کرناٹک کا سبق ابھی سمجھ میں نہیں آیا ہے ان کو۔ انھوں نے مزید کہا کہ ریاست میں ایک فیملی کو 35 کلو چاول دیا جا رہا ہے، جبکہ مرکزی حکومت 5 کلو ہی چاول دیتی ہے۔ ریاستی حکومت اس پر 5000 کروڑ روپے اب تک خرچ کر چکی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ریاستی وزیر محمد اکبر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ریاستی حکومت کی دھان خریدی کا منصوبہ سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ دھان خریدی کے لیے ریاستی حکومت ہر سال 20 سے 25 ہزار کروڑ روپے کا قرض لیتی ہے۔ اس کے جواب میں بی جے پی کے ریاستی صدر ارون ساؤ نے کہا تھا کہ دھان خریدی کے معاملے میں محمد اکبر نے جو کہا وہ بے بنیاد ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


/* */