بہار: پٹنہ میں رابڑی دیوی کی رہائش گاہ پر سی بی آئی کا چھاپہ، تیجسوی یادو بھی موجود

سی بی آئی کے اہلکار رابڑی دیوی سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ سی بی آئی کی ٹیم تین سے چار گاڑیوں میں سوار ہو کر رابڑی دیوی کے گھر کے پہنچی۔

<div class="paragraphs"><p>رابڑی دیوی، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

رابڑی دیوی، تصویر آئی اے این ایس

user

قومی آوازبیورو

نوکری کے بدلے زمین گھوٹالے کے معاملے میں سی بی آئی کی ٹیم آج بہار کے پٹنہ میں رابڑی دیوی کے گھر پہنچی۔ معلومات کے مطابق سی بی آئی کے اہلکار رابڑی دیوی سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ ڈپٹی سی ایم تیجسوی یادو بھی رہائش گاہ پر موجود ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ سی بی آئی کی ٹیم تین سے چار گاڑیوں میں سوار ہو کر رابڑی دیوی کی رہائش گاہ پر پہنچی، جہاں انہوں نے سب سے پہلے رہائش گاہ میں موجود ملازمین اور سیکورٹی اہلکاروں سے معلومات حاصل کیں۔ پھر رابڑی دیوی کے بارے میں معلومات مانگیں۔

سی بی آئی کے ایک ذرائع نے کہا، ’’ہم معاملے کی جانچ کر رہے ہیں۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی کو اس معاملے میں سابق وزیر ریلوے لالو پرساد کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری مل گئی ہے۔ جنوری میں ایجنسی نے متعلقہ عدالت کے سامنے قانونی چارہ جوئی کے لیے منظوری کا خط پیش کیا تھا۔ سی بی آئی نے گزشتہ سال اکتوبر میں لالو پرساد، رابڑی دیوی اور ان کی بیٹی ہیما یادو سمیت 16 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ سی بی آئی نے کہا تھا کہ تحقیقات کے دوران پتہ چلا ہے کہ ملزمین نے سنٹرل ریلوے کے اس وقت کے جنرل منیجر اور سینٹرل ریلوے کے سی پی او کے ساتھ ملی بھگت سے زمین کے بدلے اپنے یا اپنے قریبی رشتہ داروں کو نوکری دی تھی۔


سی بی آئی نے چارج شیٹ میں الزام لگایا ہے کہ امیدواروں نے فرضی ٹی سی کا استعمال کیا ہے اور وزارت ریلوے کو فرضی تصدیق شدہ دستاویزات جمع کرائے ہیں۔ سی بی آئی کو جانچ میں پتہ چلا ہے کہ یہ زمین نوکری کے متلاشی رابڑی دیوی اور ہیما یادو کو تحفے میں دی تھی، جنہیں بعد میں ریلوے میں تعینات کیا گیا تھا۔ ریلوے ملازم ہردیانند چودھری اور سابق وزیر ریلوے لالو پرساد یادو کے اس وقت کے او ایس ڈی بھولا یادو کو اس کیس میں پہلے سی بی آئی نے گرفتار کیا تھا۔ بھولا 2004 سے 2009 کے درمیان لالو کے او ایس ڈی تھے۔ سی بی آئی نے یادو اور اس وقت کے مرکزی وزیر ریلوے لالو یادو، ان کی بیوی رابڑی دیوی، دو بیٹیوں اور نامعلوم سرکاری ملازمین اور نجی افراد سمیت 15 دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

2004-2009 کی مدت کے دوران یادو نے ریلوے کے مختلف زونز میں گروپ 'ڈی' کے عہدوں پر تقرریوں کے بدلے اپنے خاندان کے افراد کے نام زمیں کی صورت میں مالی فوائد حاصل کیے تھے۔ پٹنہ کے بہت سے باشندوں نے خود یا اپنے خاندان کے افراد کے ذریعے شہر میں اپنی زمین لالو یادو خاندان کے افراد کے زیر کنٹرول ایک نجی کمپنی کے حق میں فروخت یا تحفے میں دے دی ہے۔ زونل ریلوے میں اس طرح کی تقرری کے لیے کوئی اشتہار یا کوئی پبلک نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا پھر بھی ممبئی، جبل پور، کولکتہ، جے پور اور حاجی پور میں واقع مختلف زونل ریلوے میں بہت سے لوگوں کی تقرری کی گئی تھی۔ سی بی آئی عہدیدار نے کہا کہ پٹنہ میں واقع تقریباً 1,05,292 مربع فٹ زمین اور غیر منقولہ جائیدادیں لالو یادو اور ان کے خاندان کے افراد نے پانچ سیل ڈیڈ اور دو گفٹ ڈیڈ کے ذریعے حاصل کی تھیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔