بالاسور ٹرین حادثہ کی سی بی آئی تفتیش محض سرخیوں میں بنے رہنے کی کوشش: جے رام رمیش

جے رام رمیش نے کہا کہ بالسور ٹرین حادثہ پر ریلوے سیفٹی کے کمشنر کی طرف سے اپنی رپورٹ پیش کرنے سے پہلے ہی سی بی آئی جانچ کا اعلان کر دیا گیا ہے، یہ سرخیوں میں رہنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔

<div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش / آئی اے این ایس</p></div>

جے رام رمیش / آئی اے این ایس

user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس نے منگل کو ایک بار پھر مرکزی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے اڈیشہ میں بالاسور ٹرین حادثہ کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے جانچ کی سفارش کی اور اسے روشنی میں رہنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں بتایا۔ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج کمیونیکیشن جے رام رمیش نے کہا کہ بالسور ٹرین حادثہ پر ریلوے سیفٹی کے کمشنر کی طرف سے اپنی رپورٹ پیش کرنے سے پہلے ہی سی بی آئی جانچ کا اعلان کر دیا گیا ہے، یہ سرخیوں میں رہنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔

انہوں نے اندور-پٹنہ ایکسپریس ٹرین حادثہ کی تحقیقات قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کو سونپنے کے حکومت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، کانپور کے قریب 20 نومبر 2016 کو پٹری سے اتر گئی تھی، 150 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ 23 جنوری 2017 کو اس وقت کے ریلوے وزیر سریش پربھو نے مرکزی وزیر داخلہ کو ایک خط لکھ کر حادثے کی این آئی اے جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔ 24 فروری 2017 کو وزیر اعظم نریندر مودی کانپور میں کہتے ہیں کہ ٹرین حادثہ ایک سازش ہے۔ 21 اکتوبر 2018 کو اخبارات نے خبر دی کہ این آئی اے ٹرین کے پٹری سے اترنے کے معاملے میں چارج شیٹ داخل نہیں کرے گی۔ این آئی اے کی حتمی رپورٹ پر ابھی تک کوئی سرکاری خبر نہیں ہے۔


خیال رہے کہ بالاسور ٹرین حادثہ جس میں 275 مسافروں کی موت ہوئی تھی، کی سی بی آئی جانچ کی سفارش کرنے پر حکومت کانگریس سمیت اپوزیشن کی طرف سے تنقید کی زد میں ہے۔ سرکاری ذرائع نے اشارہ کیا کہ ابتدائی جانچ سے ایسا لگتا ہے کہ یہ نظام میں جان بوجھ کر مداخلت کا معاملہ ہے، اس لیے سی بی آئی جیسی پیشہ ور ایجنسی سے تحقیقات کی ضرورت ہے۔

اتوار کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریلوے وزیر اشونی وشنو نے کہا کہ ریلوے بورڈ نے جمعہ کے خوفناک حادثے کی سی بی آئی انکوائری کی سفارش کی ہے۔ ویشنو نے یہ بھی کہا کہ حادثہ الیکٹرانک انٹرلاکنگ میں تبدیلی کی وجہ سے پیش آیا۔ ذرائع نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران بہت سی معلومات منظر عام پر آئی ہیں۔ مختلف قسم کی معلومات دستیاب کرائی گئی ہیں، اس کے لیے ایک پیشہ ور تفتیشی ایجنسی کی ضرورت ہے۔


ذرائع نے بتایا کہ جب تک نظام میں جان بوجھ کر مداخلت نہ کی جائے، مین لائن کے لیے مختص راستے کو لوپ لائن میں تبدیل کرنا ناممکن ہے۔ کانگریس اڈیشہ کے بہناگا بازار اسٹیشن کے قریب ہوئے ہولناک ٹرین حادثے کے لیے وشنو کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔