کیا کرنسی کے ذریعہ پھیل سکتا ہے وائرس؟ حکومت کی خاموشی سے کیٹ ناراض!

کیٹ نے کہا کہ ملک کے کروڑوں کاروباریوں کے ذریعہ نوٹوں کو سنبھالنا کاروباری سرگرمیوں کا ایک ضروری حصہ ہے اور اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ کرنسی نوٹ وائرس کا ذریعہ بنتے ہیں تو یہ خطرناک ہے۔

بینک نوٹ
بینک نوٹ
user

قومی آوازبیورو

کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس (کیٹ) نے بدھ کو مرکزی وزیر صحت منسکھ منڈاویا اور ہندوستانی میڈیکل ریسرچ کونسل (آئی سی ایم آر) کے سربراہ ڈاکٹر بلرام بھارگو کو ایک نوٹس بھیج کر ان سے فوراً یہ واضح کرنے کو کہا ہے کہ چلن میں جاری کرنسی یعنی نوٹوں میں وائرس ہیں یا نہیں۔ وہیں کیٹ نے کرنسی نوٹ وائرس پھیلانے کا ذریعہ ہیں یا نہیں، یہ واضح کرنے کے بے حد اہم ایشو پر وزارت صحت اور آئی سی ایم آر کی خاموش پر بھی افسوس ظاہر کیا ہے۔

کیٹ کے قومی جنرل سکریٹری پروین کھنڈیلوال نے کہا کہ معاملہ 2018 سے لٹکا ہوا ہے جس کے لیے کیٹ نے باضابطہ طور سے نوٹس بھیجے ہیں لیکن حیرت انگیز طور سے مرکزی وزارت صحت اور آئی سی ایم آر دونوں نے اس معاملے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ موجودہ کووڈ حالات میں جہاں کووڈ ایک وائرس سے پھیلتا ہے، وضاحت بہت اہم رکھتا ہے۔


ملک بھر کے کروڑوں کاروباریوں کے ذریعہ کرنسی نوٹوں کو سنبھالنا کاروباری سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ اور اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ کرنسی نوٹ وائرس پھیلانے کا ذریعہ ہیں تو یہ نہ صرف کاروباریوں کے لیے بلکہ ان کے صارفین کے لیے بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔

کیٹ کے مطابق 2 ستمبر 2018 میں اس وقت کے وزیر مالیات رہے ارون جیٹی اور اس وقت کے وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن کو ایک نوٹس بھیجا تھا اور اس کے بعد 2019، 2020 اور 2021 میں وزارت صحت اور آئی سی ایم آر کو کئی دیگر ریمائنڈر بھی دیے گئے، لیکن وزارت صحت اور آئی سی ایم آر دونوں سے کوئی وضاحت موصول نہیں ہوئی، جب کہ یہ ایشو بے حد سنگین نوعیت کا ہے۔ ہم سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ وضاحت میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔